ہوم / کرکٹ پریویو 2018 / سالانہ رینکنگ اپ ڈیٹنگ: پاکستان کی ایک درجہ ترقی

سالانہ رینکنگ اپ ڈیٹنگ: پاکستان کی ایک درجہ ترقی


2018ء کے بارہ ماہ کے اختتام پر جاری ہونے والی ون ڈے رینکنگ میں سال کے آغاز کے مقابلے میں ایک درجہ ترقی ہوگئی ہے جو جنوری میں 105ریٹنگ پوائنٹس کے ساتھ چھٹے نمبرپر تھی ۔اب اُس نے سال کا خاتمہ پانچویں درجے پر کیا ہے۔

پاکستا ن میں کھیلوں کے معروف ترین میگزین ’اسپورٹس لنک‘ کے’ ون ڈے سالانہ ایڈیشن 2018ء ‘ میں شائع ہونے والی آئی سی سی ون ڈے سالانہ اپ ڈیٹنگ کے مطابق 2018ء کے آغاز و اختتام کے تناظر میں پاکستان سمیت چار ٹیموں نے ترقیاں پائیں جن میں انگلینڈ،نیوزی لینڈ اور افغانستان کی ٹیمیں شامل تھیں جبکہ تنزلی کاشکار ہونے والی تین ٹیموں میں زمبابوے کے علاوہ جنوبی افریقہ اور آسٹریلیاکی ٹیمیں شامل رہیں۔جن میں آسٹریلیااور جنوبی افریقہ کو سب سے زیادہ تین تین درجے تنزلی کا سامناکرنا پڑا۔

2018ء کا ون ڈے کیلنڈرایئر اگرچہ بہت ساری ٹیموں کیلئے اچھا نہیں رہا مگر عالمی چیمپئن آسٹریلیا کیلئے نہایت ہی بُرا رہا جو بارہ ماہ میں فتح وشکست کے تناسب کے اعتبار سے دُنیاکی اٹھار ہ ٹیموں میں سب سے نیچے رہی جو ورلڈچیمپئن آسٹریلیا کیلئے ناقابل یقین نتائج ہیں جسے سال میں کھیلے گئے تیرہ ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں سے صرف دو ہی کامیابیاں مل سکیں جبکہ اس کے بدلے گیارہ میچز میں اُسے شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

2018ء کے ٹی ٹوئنٹی ریکارڈزپر مشتمل سالنامہ ایڈیشن پڑھیں

اس کارکردگی نے نہ صرف کینگروز کے چودہ پوائنٹس کم کئے بلکہ تین درجے نیچے پٹختے ہوئے چھٹے درجے پر پہنچادیا۔2018ء کے بارہ ماہ کے دوران کسی ٹیم کے اتنے پوائنٹس کم نہیں ہوئے جتنے آسٹریلیا کے ہوئے ہیں ۔ گزشتہ سال کے دوران حیران کن طورپر محدود اوورزکی رینکنگ میں زمبابوے کے علاوہ تنزلی کا سامنا صرف اُن دو ٹیموں کوکرنا پڑا جنہیں اس فارمیٹ کی مضبوط ترین ٹیموں میں شمارکیاجاتا ہے۔

آسٹریلیاکے بعد محض جنوبی افریقہ ہی دوسری ایسی ٹیم تھی جسے بارہ ماہ کے عرصے میں پانچ سے زائد پوائنٹس گنوانے پڑے جو سال میں آٹھ شکستوں کے بدلے 9میچز جیتنے کے باوجود 9پوائنٹس سے محروم ہوئی جس کی وجہ سے اُس کی نو میں سے چھ کامیابیاں لورینک ٹیموں زمبابوے اور اورسری لنکا کے خلاف تھیں۔

جنوبی افریقی ٹیم نے سال کا آغاز دُنیاکی نمبرون ون ڈے ٹیم کے طورپر کیا تھا لیکن سال کے اختتام پر وہ تین درجے تنزلی کا شکار ہوکر چوتھی پوزیشن پر چلی گئی ہے۔

2018ء کے بارہ ماہ کی مجموعی کارکردگی کے تناظر میں عالمی نمبر2بھارت جبکہ ساتویں سے نویں نمبرپر موجود بنگلہ دیش، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔ زمبابوین ایک درجہ تنزلی کے سبب ٹاپ ٹین کی فہرست سے خارج ہوئی جبکہ اُس کی جگہ افغانستان نے دسویں پوزیشن پرقبضہ جمایاجس نے سال کے دوران اپنے کھاتے میں پندرہ پوائنٹس کا اضافہ کا کیا جو2018ء میں کسی بھی ٹیم کے حاصل کردہ سب سے زیادہ پوائنٹس تھے۔جس کے بعد انگلینڈ نے سب سے زیادہ بارہ پوائنٹس حاصل کئے جس کے سبب وہ تین درجے پھلانگ کر عالمی نمبرون ٹیم بننے میں کامیاب رہی جو بارہ میں کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا جمپ تھا۔

سال میں قدرے مایوس کن کارکردگی کامظاہرہ کرنے والی پاکستان ٹیم کو بھی تین پوائنٹس گنوانا پڑے مگر جنوبی افریقہ اور آسٹریلیاکی تنزلی کے سبب اُسے ایک درجہ ترقی کرنے کا موقع مل گیاجس نے 2018 کے ون ڈے کیلنڈرایئرکا اختتام پانچویں پوزیشن کے ساتھ کیا۔

ان دو ٹیموں کی تنزلی کا فائدہ نیوزی لینڈ نے بھی اُٹھایا جو سال کے دوران اپنی ریٹنگ میں ایک بھی پوائنٹ کا اضافہ کئے بغیر دو درجے ترقی پاکرتیسرے نمبرپر آنے میں کامیاب رہی۔سال بھر کے دوران مجموعی طورپر صرف تین ٹیمیں ہی اپنی رینکنگ بہتر بناسکیں جس میں چھ شکستوں کے بدلے سترہ میچز جیتنے والی انگلش ٹیم نے اپنے زورِ بازومیں ترقی پائی جبکہ پاکستان اور نیوزی لینڈکی ترقیاں اُن کی اپنی کارکردگی کے بجائے آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کی تنزلیوں کا نتیجہ تھیں۔

مزید اسٹوریاں پڑھیں


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

بھارت نے پاکستان کی پانچویں ون ڈے رینکنگ بچالی

بھارتی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلوی سرزمین پر پہلی بار باہمی ون ڈے سیریز جیت کر …

error: Content is protected !!