ہوم / ٹاپ اسٹوریاں / ورلڈکپ2015ء کے ہیروزجواس میگاایونٹ کا حصہ نہیں ہوں گے

ورلڈکپ2015ء کے ہیروزجواس میگاایونٹ کا حصہ نہیں ہوں گے


پاکستان سپر لیگ کا چوتھا سیزن خاتمے کے قریب ہے جس کے بعد پاکستانی شائقین اور میڈیا کی نگاہیں ورلڈکپ پر مرکوزہوجائیں گی اور اس حوالے سے ’اسپورٹس لنک‘ بھی چند سلسلے شروع کرے گا ۔اگر ان سلسلوں کے آغازمیں قدرے دیر ہے لیکن یہاں ہم اپنے قارئین کیلئے ورلڈکپ سے متعلق ایک خصوصی رپورٹ اس ہفتے ’ٹاپ فائیو‘ میں شائع کررہے ہیں جو گزشتہ ورلڈکپ 2015 کے اُن کھلاڑیوں سے متعلق ہے جو رواں سال مئی میں شروع ہونے والے بارھویں ورلڈکپ کا حصہ نہیں بنیں گے۔
# 1 ابراہام ڈی ویلیئرز
جنوبی افریقہ کے ابراہام ڈی وی ویلیئرز کرکٹر سے کہیں زیادہ ’انٹرٹرینر‘ دکھائی دیتاہے جس نے اپنے لاجواب اسٹروکس سے شائقین کرکٹ کو اپنا دیوانہ بنائے رکھاتھا۔وہ گزشتہ ورلڈکپ میں اگرچہ اپنی ٹیم کو تاریخ میں پہلی بار چیمپئن بنانے کا اعزاز تو نہیں دلاسکے تھے تاہم اپنی عمدہ کارکردگی سے اُنہوں نے لاکھوں دل جیت لئے تھے۔

وہ گزشتہ ورلڈکپ کے دوران سات اننگزمیں96.40کی شاندار اوسط اور 144.31 کے اسٹرائک ریٹ سے 482رنزبناکر ٹورنامنٹ میں جنوبی افریقہ کے ٹاپ اسکوررثابت ہوئے تھے جبکہ مجموعی طورپر وہ محض مارٹن گپٹل اور کمارسنگاکارا کے بعد ورلڈکپ 2015ء کے تیسرے ٹاپ اسکوررتھے۔ انہوں نے سڈنی کے مقام پر ویسٹ انڈیز کے خلاف 245.45کے اسٹرائک ریٹ سے 66 گیندوں پر 162*رنز کی لاجواب اننگز بھی کھیلی تھی جس میں سترہ چوکے اور آٹھ چھکے شامل تھے۔شائقین اُن سے ورلڈکپ 2019ء میں بھی عمدہ کھیل کی توقع لگائے بیٹھے تھے مگر ڈی ویلیئرزنے بارھویں ایڈیشن کے آغاز سے محض ایک سال قبل انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیاتھا۔

# 2 کمارسنگاکارا
بطورکپتان ورلڈکپ2011ء کا فائنل کھیلنے کے بعد عام کھلاڑی کی حیثیت سے بھی کمارسنگاکارا ورلڈکپ 2015ء میں خاصے محترک دکھائی دئیے تھے۔گزشتہ ایونٹ میں اُس کی کارکردگی تاریخی رہی تھی جو ورلڈکپ مقابلوں کی تاریخ میں لگاتار چار سنچریاں داغنے والے دُنیاکے واحد کرکٹر بنے تھے۔یہ اب تک ایک ورلڈکپ ٹورنامنٹ میں کسی بھی بلے باز کی سب سے زیادہ سنچریاں بھی ہیں۔

سری لنکن ٹیم کے کوارٹرفائنل سے آگے نہ بڑھ پانے کے سبب کمار سنگاکارا گزشتہ میگاایونٹ میں صرف سات میچز کھیل پائے تھے جن میں وہ چار سنچریوں سمیت 108.20 رنز فی اننگز کی شاندار اوسط سے 541رنز بنانے میں کامیاب رہے تھے جو دوزائد میچز کھیلنے والے کیوی اوپنر مارٹن گپٹل کے بعد کسی بھی بلے باز کے دوسرے زیادہ رنزتھے۔دوکم میچز کھیلنے والے کمارسنگاکارا صرف چھ رنزکے فرق سے دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ ورلڈکپ 2015ء کے اختتام کے فوری بعد ہی کمارسنگاکارا نے انٹرنیشنل کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔

# 3 مصباح الحق
اس فہرست میں مصباح الحق کا نام بھی شامل ہے جو گزشتہ ایونٹ کے سات میچز میں چار ففٹیوں سمیت 350رنز بناکر پاکستان کے ٹاپ اسکورر تھے جبکہ مجموعی طورپرٹورنامنٹ کے ٹاپ ٹین بلے بازوں میں بھی شامل تھے۔اس کارکردگی کی بدولت وہ ایک ورلڈکپ میں سب سے زیادہ رنزبنانے والے پاکستانی کپتان بھی بنے تھے جبکہ مجموعی طورپر(عام پلیئر کی حیثیت سے ) بھی صرف جاویدمیانداداور سعید انورہی اُن کے آگے ہیں۔

مصباح الحق ٹورنامنٹ میں ماسوائے ایک میچ کے دیگر سبھی مقابلوں میں 30 سے زائد رنزبنانے میں کامیاب رہے تھے جبکہ سات اننگزمیں چار ففٹیاں اُن کی موجودگی کا احساس دلارہی تھیں۔انہوں نے ٹورنامنٹ میں اپنا ہائیسٹ اسکور (76رنز)روایتی حریف بھارت کے خلاف بنایاتھا۔مصباح الحق نے ورلڈکپ2015ء سے قبل ہی ٹورنامنٹ کے بعد ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کررکھاتھا۔

# 4 برینڈن میکولم
اس میں کوئی شک نہیں کہ کیوی کرکٹ کو عروج بخشنے میں برینڈن میکولم کا ہی کلیدی کردارتھا جسے اب تک کا بہترین کیوی کپتان کہاجاسکتاہے۔وہ اپنی ٹیم کو ورلڈکپ فائنل تک لے جانے والا واحد کیوی کپتان بھی ہے۔برینڈن میکولم میں اپنے کھلاڑیوں سے بھرپور کام لینے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی۔

یہی وجہ تھی کہ اُن کی قیادت میں کھیلنے والا مارٹن گپٹل ٹورنامنٹ کا ٹاپ اسکورربناتھا جبکہ ٹرینٹ بولٹ ٹورنامنٹ کا سرفہرست بولرتھا۔برینڈن میکولم نے نو میچز میں 328رنزبناکر ورلڈکپ 2015ء میں دوسرے کامیاب کیوی بلے باز ہونے کا اعزاز حاصل کیاتھا ۔اس دوران اُس نے18گیندوں پر51رنز بناکر ورلڈکپ مقابلوں کی تیزترین ففٹی کا ریکارڈ بھی بناڈالاتھا۔ برینڈن میکولم نے ورلڈٹی ٹوئنٹی2016ء سے محض ایک ماہ قبل انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیاتھا۔

# 5 مائیکل کلارک

ورلڈکپ 2015 ء میں مائیکل کلارک نے اپنی ٹیم کیلئے بطور کپتان شاندار کردار نبھایاتھا۔اس ٹورنامنٹ میں اگرچہ وہ ٹاپ اسکوررزمیں شامل نہ تھا مگر اُس نے ضرورت پڑنے پر ہمیشہ رنز کئے جس کی مثال ورلڈکپ فائنل تھاجس میں اُس نے اہم موقع پر 74رنزکی اننگز کھیلی تھی جوکہ اس میگاایونٹ میں اُن کا ہائیسٹ اسکور بھی تھا۔ورلڈکپ جیتنے کے ساتھ ہی مائیکل کلار ک کے انٹرنیشنل کرکٹ کیریئرکا خاتمہ ہوگیا تھا۔

مورن مورکل
اس فہرست میں جنوبی افریقہ کے اس فاسٹ بولر مورن مورکل کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے جس نے گزشتہ ورلڈکپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیاتھا جنہوں نے محض آٹھ اننگز میں3/34کی کارکردگی سمیت 17وکٹیں حاصل کی تھیں جو ورلڈکپ 2015ء میں کسی بھی بولرکی سب سے زیادہ وکٹیں تھیں ۔

گزشتہ میگاایونٹ میں مورن مورکل کی سترہ وکٹوں میں برینڈن میکولم،کمارسنگاکارا،برینڈن ٹیلر اور ایم ایس دھونی جیسے بلے بازوںکی وکٹیں بھی شامل تھیں۔ مورن مورکل نے 26فروری 2018ء کو انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیاتھا جس کے سبب وہ بارھویں میگاایونٹ میں ایکشن میں دکھائی نہیں دیں گے۔

دیگر اہم اسٹوریاں پڑھی


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

ورلڈ کپ میں بھی ایشیا کپ جیسی کارکردگی دکھائیں گے :راشد خان

افغا نستا ن ٹیم کے اسٹار آل راؤنڈر راشد خان نے کہا ہے کہ ہماری …

error: Content is protected !!