ہوم / ٹاکرا / کون زیادہ بہترون ڈے بولرتھا-وسیم اکرم یا مک گرا؟

کون زیادہ بہترون ڈے بولرتھا-وسیم اکرم یا مک گرا؟


اپنے عہد میں ایک جیسی کلاس اور ملتی جلتی صلاحیتیں رکھنے والے دو کرکٹرزکے اعدادوشمار کے موازنے پر مشتمل ’اسپورٹس لنک‘میگزین کے سلسلے ’’موازنہ‘‘ میں پاکستان کے عظیم لیفٹ آرم پیسر وسیم اکرم اور آسٹریلیا کے تیز بولر گلن مک گرا کو شامل کیاگیا ہے جو یہاں انٹرنیٹ صارفین کیلئے شائع کیا جارہاہے۔

رنز فی وکٹ:

جیساکہ آپ جانتے ہیں کہ کسی بھی بولر کیلئے فی وکٹ دیئے گئے رنز کافی اہم ہوتے ہیں اور ٹیسٹ کی نسبت محدود اوورزکے مقابلو ں میں رنز فی وکٹ اوسط کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس اعتبار سے وسیم اکرم اور گلن مک گراکا موازنہ کیا جائے تو آسٹریلوی پیسرکو برتری حاصل دکھائی دیتی ہے جنہوں نے فی وکٹ کیلئے نسبتاً ڈیڑھ رنز کم دیئے تھے۔انہوں نے فی وکٹ کیلئے 22.02رنز دیئے جو وسیم اکرم کی 23.52 کی اوسط سے خاصی بہتر کارکردگی تھی۔

دوسری جانب، حریف ٹیم کے ملک میں کھیلتے ہوئے وسیم اکرم کہیں زیادہ بہتر بولر ثابت ہوئے جنہوں نے فی وکٹ کیلئے گلن مک گرا کے مقابلے میں فی وکٹ لگ بھگ تین رنز کم دیئے۔ جو اس بات کا غماز ہے کہ سوئنگ کے سلطان تمام کنڈیشنز سمیت مخالف کنڈیشنز میں بھی بہترین کھیل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

وکٹیں فی اننگز:

وسیم اکرم نے اپنے ون ڈے کیریئرکے مجموعی 356میچوں میں سے 351مقابلوں میں بولنگ کرانے کا اعزاز حاصل کیاتھا جن میں 1.43وکٹیں فی اننگزکی اوسط سے 502وکٹیں حاصل کیں۔

دوسری گلن مک گرا کی یہ اوسط 1.53وکٹیں فی اننگز رہی جو وسیم اکرم سے 0.10زائد وکٹ تھی۔اس معمولی فرق سے برتری کے باوجود یہ پوائنٹ گلن مک کے حصے میں جائے گا جنہوں نے اپنے ون ڈے کیریئر کی 248اننگزمیں381بلے بازوں کو آئوٹ کیاتھا۔

4+وکٹیں

حریف ٹیم کی آدھی وکٹیں اکیلے گرانا کسی بھی بولر کیلئے بہت بڑا اعزاز ہوتاہے جبکہ محدود اوورز کے میچوں میں دس میں سے چار وکٹیں لینا بھی بڑا کارنامہ ہوتا ہے جو وسیم اکرم نے اپنے طویل کیریئر میں 23بار سرانجام دیاتھا۔

انہوں نے اپنے کیریئر کی تقریباً ہر دسویں (10.43)اننگزمیں فورپلس وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ آسٹریلوی پیسرکی یہ اوسط 15.50 رہی تھی جنہوں نیایسی کارکردگی دُہرانے کیلئے تقریباً ہر پندرھویں اننگزکا سہارالیتے ہوئے 248 اننگزمیں سولہ بار چار یا اس سے زائد وکٹیں لی تھیں۔

فتوحات میں وکٹیں فی اننگز:

مجموعی طورپرفی اننگزمیں وکٹیں لینے کے تناسب میں گلن مک گراکو معمولی برتری حاصل تھی جبکہ جیتے گئے میچوں میں دونوں بولرزکی فی اننگز وکٹیں لینے کی صلاحیت جانچیں تو یہاں بھی آسٹریلوی پیسر کو ہی برتری حاصل دکھائی دیتی ہے۔

وسیم اکرم کی موجودگی میں پاکستان ٹیم نے جن 199 ون ڈے میچوں میں فتوحات سمیٹی تھیں ، اُن میں وسیم اکرم نے 326وکٹیں پائی تھیں جو فی اننگز1.63 وکٹوں کی اوسط بنتی ہے جبکہ آسٹریلوی پیسر کی یہ اوسط 1.76بنتی ہے جنہوں نے جیتے گئے 171 میچوں میں 301وکٹوں پر ہاتھ صاف کئے تھے۔

سال میں40+وکٹیں

وسیم اکرم نے جن 20برسوں کے دوران ون ڈے میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی، اُن میں سے تین سال ایسے تھے جن میں وہ وکٹوں کی تعداد 40تک پہنچانے میں کامیا ب رہے جنہوں نے 1992ء اور1993ء میں بالترتیب 43اور45 وکٹیں لینے کے علاوہ 2002ء کے سیکنڈلاسٹ کیلنڈرایئرمیں44وکٹوں پرہاتھ صاف کیاتھا۔

اس اعتبار سے وہ اپنے مجموعی کیریئرکے پندرہ فیصد کیلنڈرایئرزمیں 40+وکٹیں لینے میں کامیاب رہے تھے۔دوسری جانب،گلن مک گرا کا یہ تناسب 13.33فیصد رہاجنہوں نے اپنے کیریئر کے 15 کیلنڈرایئرز میں صرف دوبار اپنی وکٹوں کی تعداد 40تک پہنچائی تھی۔

چھوٹے اسکورپر حریف بیٹسمینوں کاآئوٹ

حریف ٹیم کے بلے بازوں کو کریز پر زیادہ سیٹ ہونے کا موقع دیئے بغیر پویلین واپس بھیجنا کسی بھی بولنگ سائیڈ کیلئے مثبت پہلو ہوتاہے۔اس دوڑ میںآسٹریلوی پیسرکو معمولی برتری حاصل ہے۔

وسیم اکرم نے اپنے کیریئرکی 502میں سے 295 وکٹیں حریف بلے بازوں کو سنگل ڈیجٹ (0-9) اسکورزپر آئوٹ کرکے حاصل کی تھیں جو اُن کی کل وکٹوں کا 58.76فیصد بنتی ہیں جبکہ گلن مک گرا کا یہ تناسب 59.84رہاجنہوں نے381وکٹوں میں سے 228بار حریف بلے بازوں کو 10رنز تک نہیں پہنچنے دیاتھا۔

مین آف دی میچ ایوارڈز:

وسیم اکرم نے اپنے کیریئرکے 356میں سے 22میچوں میں بہترین کھلاڑی ہونے کا اعزا ز پایاتھا جواُن کے کل میچوں کا 6.17فیصد بنتا ہے۔ دوسری جانب گلن مک گرا اپنے کیریئر کے چھ فیصد میچوں میں بہترین کھلاڑی بن پائے تھے جو اپنے ون ڈے کیریئر کے مجموعی 250میں سے پندرہ میچوں میں بہترین کھلاڑی ٹھہرے۔


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

پاکستان اور بھارت کے درمیان زبردست مقابلہ ہوگا:انضمام الحق

پاکستان اور بھارٹ کے درمیان ہائی پریشر میچ کل کھیلا جاہے گا اس مقا بلے …

error: Content is protected !!