ہوم / پاکستان کا دورۂ جنوبی افریقہ 2018/19 / سرفرازپرپابندی،کیا پاکستان کرکٹ کا منظرنامہ بدلنے جارہاہے

سرفرازپرپابندی،کیا پاکستان کرکٹ کا منظرنامہ بدلنے جارہاہے


آخرکار وہی ہوا جس کا ڈر تھا کہ پاکستانی کپتان سرفراز احمد پر نسلی امتیاز پر مبنی جملے کی وجہ سے آئی سی سی کی جانب سے پابندی عائد کر دی گئی لیکن اس سے بھی زیادہ حیران کن بات چار میچوں کی پابندی کے باوجود سرفراز احمد کو فوری وطن واپسی کی ہدایت دی تھی جو پی سی بی کی جانب سے اُسے ملی جس کے بعد کپتان کی تبدیلی سمیت مختلف چہ میگوئیاں شروع ہوگئی اور یہ سلسلہ تاحال نہیں رُکا۔

اس سے فوری طور پر یہ اندازہ لگایا جانا غلط نہیں کہ مستقبل قریب میں پاکستان کرکٹ کا منظر تبدیل ہونے جا رہا ہے اور قطعی حیرت نہ کی جائے جب سرفراز احمد صرف ٹی ٹوئنٹی میچوں میں کپتانی کرتے دکھائی دیں کیونکہ کافی عرصے سے یہ بحث دبے لفظوں میں جاری تھی کہ ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم کی قیادت میں تبدیلی لائی جائے کیونکہ دونوں فارمیٹس میں ٹیم کو مطلوبہ نتائج کے حصول میں ناکامی کا سامنا تھا۔

اگرچہ سرفراز احمد پر عائد پابندی جنوبی افریقہ کیخلاف رواں سیریز کے دوسرے ٹی ٹوئنٹی تک ختم ہو جائے گی لیکن پی سی بی نے انہیں تیسرا ٹی ٹوئنٹی بھی نہ کھلانے کا فیصلہ کرتے ہوئے شعیب ملک کو قیادت کے فرائض سونپ دیئے ہیں کیونکہ آئی سی سی نے سرفراز احمد کو ایجوکیشن پروگرام میں شرکت کی بھی ہدایت کر دی ہے۔

واقعے کے رونما ہونے کے بعد سرفراز احمد نے جنوبی افریقی کھلاڑی اینڈائیل پھیلوکوایو سے بھی معذرت کی اور اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششوں میں لگے رہے کیونکہ عام خیال یہی تھا کہ وہ بارہ سے پندرہ میچوں کی پابندی کے خطرات سے دوچار ہیں ۔بعض افراد کا خیال تھا کہ سرفراز احمد کے ماضی کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ان کے حالیہ طرز عمل کے باعث شاید معافی تلافی پر بات ٹل جائے لیکن ایسا نہیں ہو سکا

سرفراز احمد کی جانب سے معذرت نے اگرچہ انہیں متوقع لمبی سزا سے بچا لیا لیکن ان کا جنوبی افریقہ کے دورے سے اس وقت وطن واپس بلایا جانا ان اندیشوں کو ہوا دے رہا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں شاید صرف مختصر ترین فارمیٹ میں ہی قیادت کرتے دکھائی دیں کیونکہ کافی عرصے سے پاکستانی ٹیم کی قیادت کے حوالے سے جو بحث چل رہی ہے اس کو انجام پر پہنچانے کا یہی سب سے درست وقت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :  تھیساراپریرااورلاستھ مالنگاکی بیوی کا تنازعہ گھمبیرصورتحال اختیارکرگیا

سرفراز احمد پر پابندی کا فیصلہ کرنے میں آئی سی سی نے پانچ روز کا وقت لگا دیا کیونکہ قانونی ماہرین بھی اس معاملے کا جائزہ لے رہے تھے اور اسی دوران ملکی میڈیا میں یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ سرفراز احمد پر پابندی کے نتیجے میں شعیب ملک یا محمد حفیظ ممکنہ پاکستان کپتان ہو سکتے ہیں جبکہ وکٹ کیپنگ کا بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ محمد رضوان اس دورے کیلئے پہلے ہی اسکواڈ میں موجود تھے جو دورے پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

ممکن ہے کہ یہ محض ایک خیال ہی ہو لیکن اس پہلو کو قطعی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ورلڈ کپ کی جانب بڑھنے والی پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ کا سارا منظر تبدیل ہو سکتا ہے ۔پاکستان کی آئندہ ٹیسٹ سیریز رواں سال ستمبر سے قبل نہیں ہے لہٰذا اس بات کا تعین بڑے اطمینان کے ساتھ کیا جا سکتا ہے کہ عالمی رینکنگ میں ساتویں نمبر کی ٹیم کو سنبھالنے کیلئے اگلا اُمیدوار کون ہوگا لیکن اگر حالیہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شعیب ملک نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر ڈالا تو ممکن ہے کہ کپتانی کیلئے انہیں ہی آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے کیونکہ بعض ماہرین بھی انہیں عالمی کپ میں بطور قائد بہت زیادہ اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔

رہی بات وکٹ کیپر کی تو اس کا تمام تر انحصار بھی آئندہ میچوں میں محمد رضوان کی کارکردگی پر ہے جو اچھی بیٹنگ کر کے ون ڈے سائیڈ میں اپنی جگہ مستحکم کر سکتے ہیںاور عین ممکن ہے کہ سرفراز احمد کی مستقبل قریب میں ٹیم میں جگہ ہی نہ بن سکے کیونکہ پاکستان کرکٹ میں تو کچھ بھی ممکن ہے۔

ذرا ایک لمحے کو یاد کریں کہ2003ء میں راشد لطیف قومی ٹیم کے کپتان تھے جن کابنگلہ دیش کیخلاف وکٹوں کے عقب میں لیا گیا ایک مشکوک کیچ پابندی کا باعث بنا اور ان کی جگہ انضمام الحق کو قیادت سونپ دی گئی مگر پابندی ختم ہونے کے باوجود راشد لطیف تمام تر کوششوں کے باوجود دوبارہ پاکستان کیلئے نہ کھیل سکے جس میں ان کے بورڈ انتظامیہ سے اختلافات بھی عمل دخل تھا ،خدا نہ کرے کہ ایسا کچھ بھی ہو لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ خود کو ایک مرتبہ پھر دُہرانے جا رہی ہے کیونکہ دونوں ایک ہی شہر کے کھلاڑی ہیں اور اس اہم پہلو نے پاکستان کرکٹ کو ہمیشہ نقصان ہی پہنچایا ہے۔

دیگر اہم اسٹوریاں پڑھیں


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

’اسپورٹس لنک‘ کا مارچ ایڈیشن3شائع ہوگیا

پاکستا ن میں کھیلوں کے سرفہرست میگزین ’اسپورٹس لنک‘ کا تازہ ایڈیشن شائع ہوگیاہے جس …

error: Content is protected !!