ہوم / انٹرویوز / ہم سرفرازپرپابندی لگانے کا فیصلہ کرچکے تھے: احسان مانی [انٹرویو پارٹ1]

ہم سرفرازپرپابندی لگانے کا فیصلہ کرچکے تھے: احسان مانی [انٹرویو پارٹ1]


پاکستان کرکٹ بورڈکے چیئرمین احسان مانی نے شعیب ملک کو قائمقام کپتان بنانے کی پلاننگ سے متعلق بالاآخر پردہ اُٹھادیاہے۔انہوں نے حیران کن انکشاف کیاہے کہ وہ آئی سی سی کی جانب سے کپتان سرفرازاحمد پر عائد چارمیچز کی پابندی سے قبل ہی پی سی بی اپنے طورپر بھی کپتان پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرچکاتھا۔ انہوں نے یہ انکشاف ایک غیرملکی ویب سائٹ کو انٹرویو میں کیا اور یہ انٹرویو ترجمے کے بعد پاکستان میں کھیلوں کے سب سے بڑے میگزین ’اسپورٹس لنک‘ میں بھی شائع ہوا۔

اس انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ سرفرازاحمدکی جگہ شعیب ملک کو قائمقام کپتان بنانے کے پیچھے کیا حکمت عملی تھی۔اس حوالے سے تفصیل جاننے کیلئے اس انٹرویو کا یہ مختصر حصہ یہاں شائع کیا جارہاہے۔

سوال: ساؤتھ افریقہ میں سرفراز احمد کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے متعلق آپ کا ذاتی تبصرہ کیا ہوگا؟

ا حسان مانی: سرفراز احمد نے ساؤتھ افریقہ میں جو کچھ کیا، وہ کسی بھی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوںکہ اس بارے میں کسی شک کی گنجائش نہیںہونی چاہئے۔ یہ رویہ کسی بھی طرح قابل قبول نہیںہے کہ کوئی بھی کسی کے بارے میں کچھ بھی کے ریمارکس پاس کرتا رہے اور چاہے کوئی خود کو کتنا ہی بے قصورقرار دے مگر کسی بھی صورت میں اس رویے کو برداشت نہیںکیا جاسکتا۔

سرفراز احمد نے جیسے ہی معاملے کی نزاکت کو محسوس کیا تو اس نے اپنے کہے ہوئے الفاظ پر فوری طور پر معذرت کی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی ایک پریس ریلیز جاری کی جس میںکہاگیا کہ وہ بھی اس معاملے پر پریشان ہے اور سرفراز نے جو کچھ کہا اس پر معذرت خواہ ہے۔ہم نے کرکٹ ساؤتھ افریقہ سے انتظامی سطح پر اپنے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کے توسط سے فوری طور پر رابطہ کیااور ان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سے ذاتی حیثیت میں معذرت کی جسے انہوں نے قبول بھی کرلیا۔اس کے علاوہ سرفراز احمد اور پاکستان ٹیم منیجر نے اینڈیل فیلکوایواور ساؤتھ افریقن ٹیم منیجر محمد موسیٰ جی سے بھی ملاقات کی اوروہاںبھی سرفراز احمد کی معذرت کو قبول کرلیا گیا۔

میں آپ کے سامنے وضاحت کرتا چلوں کہ آئی سی سی کی مداخلت سے پہلے ہی ہم سرفراز احمد کو سیریز کے بقایا میچز سے باہر رکھنے کا فیصلہ کرچکے تھے۔میرے ذہن میں شک کی ایک رمق بھی نہیںہے کہ نسلی تعصب کے ان ریمارکس پر خاص طور پر ساؤتھ افریقہ میں ایکشن نہیں لیا جائے گا اور سرفراز کے لئے بقایا میچز کھیلنا مشکل ثابت ہوسکتا تھا کیونکہ اسے تماشائیوں کی زبردست ہوٹنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھاجس سے فضاء خراب ہوسکتی تھی جو کسی بھی طور پر کرکٹ کے کھیل کے لئے ایک اچھی روایت نہیںہوسکتی تھی۔

یہ ایک اہم قدم تھا جس سے ہمارے کھلاڑیوں کو پیغام ملا تھا کہ وہ اپنی حدودو قیود کا خیال رکھیں۔ آئی سی سی نے جو ایکشن لیا اس کے متعلق مجھے پہلے سے ہی آگاہی تھی۔

سوال: یہ واقعہ دوسرے ون ڈے میچ میں پیش آیاتھا جس کے بعد سرفرازتیسرا ون ڈے بھی کھیلے۔اگر کرکٹ بورڈ ایسا فیصلہ کرچکاتھا تواُسے تیسرا میچ کیوں کھلایا گیا؟

احسان مانی : جب یہ معاملات ہمارے علم میں آئے اور سرفراز احمد نے کھلے دل سے اپنی معذرت پیش کردی تو ہم اس وقوعے کے بعددوسرے ایک روزہ انٹرنیشنل میچ میں پیش آنے والے اس معاملے کے متعلق تمام ترحقائق جاننے کی کوشش کررہے تھے جس کے ساتھ آئی سی سی سے بھی گفتگو جاری تھی۔

ہم حقائق جانے بغیر کوئی فیصلہ نہیںکرنا چاہتے تھے کہ کہیں کسی سے نا انصافی نہ ہوجائے۔ آپ اسی وقت کوئی فیصلہ دے سکتے ہیں جب آپ کے سامنے تمام حقائق آجائیں جو تیسرے ایک روزہ انٹرنیشنل کے شروع ہونے تک واضح نہیںہوئے تھے۔

سوال: اس صورت حال کے پیش نظرپاکستان کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی کے سرفراز احمد پر چار میچز کی پابندی کے فیصلے پر مایوسی کیوں ہوئی تھی؟
احسان مانی : ہم نے آئی سی سی سے کہا تھا کہ ہم سرفراز احمد کے متعلق ضروری ایکشن لینے کے لئے تیار ہیںلیکن آئی سی سی کی پاکستان اور ساؤتھ افریقہ کے درمیان اس مفاہتی عمل میںشریک کار نہیںتھی اور وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنے کی خواہش مند تھی۔

ہم نے اس پر واضح کیا کہ ہم نے تمام ضروری اقدامات کئے ہیں اورساؤتھ افریقہ کوتین مرتبہ معذرت بھی پیش کی ہے جسے قبول کرلیا گیا ہے اور ہم سرفراز احمد کے خلاف اسی انداز میںانضباتی کارروائی بھی عمل لائیںگے جیسا کہ آئی سی سی نے بھی کیا تھا۔

ہم نے انہیں یقین دلایا تھا کہ سرفراز احمد کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے ان سے رابطے میںبھی رہیںگے تاہم وہ کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پراس معاملے کو کھلاڑیوںکے ساتھ اپنے طور پر نمٹانے کو بہتر سمجھتے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے فیصلہ کرکے کھلاڑیوں کو ایک کمرے میں تعصباتی رویے اور مفاہمتی عمل پر طویل لیکچرز دیئے۔ میرے خیال میں انہیں اس کا علم ہی نہیں تھا کہ ہمارے درمیان پہلے ہی مفاہمت ہوچکی تھی۔

ساؤتھ افریقہ کی جانب سے بھی کہا گیا تھا کہ ہمارے درمیان تمام معاملات باہمی افہام و تفہیم سے طے پاچکے ہیںجن میں آئی سی سی بلاوجہ بار بار مداخلت کررہی تھی۔میں اس بات کی وضاحت کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ساؤتھ افریقن بھی سرفراز احمد کے ریمارکس پر کافی پریشانی کا شکار تھے لیکن کھیل کی بہتری کے لئے انہوںنے ہماری معذرت قبول کرلی تھی اور معاملے کو مزید آگے بڑھانے کے حق میں نہیں تھے۔

میرے خیال میں آئی سی سی کے ایکشن سیاق و سباق سے قطعی طور مختلف اورغیر ضروری تھے اور انہیں فہم و ادراک سے سلجھانے کی کوشش نہیں کی گئی تھی۔ہمیںآئی سی سی نے پہلے ہی بتا دیا کہ وہ سرفراز کے خلاف ایکشن لینے جارہے ہیں جس پر ہم نے ان سے اختلاف کیا تھا

۔ایک اور قابل ذکر بات یہ تھی کہ آئی سی سی کے ساؤتھ افریقہ میںمیچ ریفری کو پاکستان اور ساؤتھ افریقہ کے درمیان مفاہمتی میٹنگز کے بارے میں مکمل آگاہی تھی تو آئی سی سی نے اسے مفاہمتی عمل میںشامل ہونے کی ہدایت کیوں نہیںکی تھی۔ میں پوری ایمانداری سے کہہ رہا ہوں کہ آئی سی سی نے اس معاملے کو جس انداز سے نمٹایا، اس سے میںبالکل متفق نہیں ہوں۔

ہم نے آئی سی سی کو بتادیا تھا ہم نے سرفراز احمد کو چوتھے اور پانچویں ایک روزہ انٹرنیشنل میچ سے باہر رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے تاکہ معاملے کی سنگینی کا بھرپور طور پر جائزہ لے سکیں۔ ہم نے صاف کہہ دیا تھا کہ ہم اس معاملے میں کوتاہی نہیں برتیں گے اور ہماری پوزیشن کافی واضح ہے۔

سرفراز احمد پر جب پابندی لگانے کا اعلان ہوا تو اسے واپس پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کس نے کیا تھا؟

سرفراز کو پاکستان واپس بھیجنے کا فیصلہ باہمی رضامندی سے طے ہوا تھا کیونکہ پورے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر وہ خود بھی کافی ذہنی دباؤ اور پریشانی کے عالم میںتھا۔اس لئے ہم نے اُسے ذہنی دبائو سے بچانے کیلئے شعیب ملک کو قائمقام کپتان مقرر کیا۔اس کے علاوہ آل رائونڈر کو کپتانی دینے کے پیچھے کوئی اور پلاننگ نہیں تھی۔

سرفراز احمد کو چار میچز کے لئے پابندی کا سامنا تھا جس کی وجہ سے وہ تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز کا صرف فائنل میچ ہی کھیل سکتا تھا جو ہمارے خیال میںاس لئے مناسب نہیںتھا کہ ایک کپتان چار میچز تک صرف ڈریسنگ روم تک محدود رہے اور کھیل میںحصہ نہ لے سکے۔ہمارے خیال میںیہ اس کے لئے مایوسی کی علامت ہوسکتا تھا جس سے اس پر اعصابی دباؤ بھی بڑھنے کا خدشہ تھا جبکہ اس کی موجودگی سے ٹیم خاطر خواہ فائدہ بھی اُٹھانے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔

دیگر اہم اسٹوریاں پڑھیں

 


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

342رنزکاہدف عبور،خیبرپختونخواکے ہاتھوں پنجاب کو مسلسل چھٹی شکست

راولپنڈی میں کھیلے جارہے پاکستان کپ کے چوتھے میچ میں خیبرپختونخوانے 342رنزکا ہدف عبورکرتے ہوئے …

error: Content is protected !!