ہوم / انٹرویوز / ملک کے نام پر اپنا مستقبل تباہ نہیں کرسکتا،کیرون پولارڈ

ملک کے نام پر اپنا مستقبل تباہ نہیں کرسکتا،کیرون پولارڈ


پی ایس ایل کے پہلے دونوں ایڈیشنز میں کراچی کنگز کی نمائندگی کرنے کے بعد تیسرے ایڈیشن میں ملتان سلطانز کا حصہ بن جانے والے ویسٹ انڈین آل رائونڈر کیرون پولارڈ نے حال ہی میں انسٹا گرام پر چند ایسی پوسٹ کی ہیں جن میں وہ بہت زیادہ جذباتی نظر آرہا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے سلیکٹرز چیئرمین کورٹنی براؤن کے مطابق پولارڈ ان 4کھلاڑیوںمیں شامل تھا جس نے پاکستان سپر لیگ کے لئے مارچ میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائرز میں حصہ لینے سے انکار کردیا تھا۔

پولارڈ نے جذبات سے بے قابو ہوتے ہوئے کہا کہ وہ ویسٹ انڈیز کے لئے نہ کھیلنے پر جو درد محسوس کررہا ہے اس کی وجوہات سوشل میڈیا پر زوروشور سے گردش کررہی ہیں۔ اس نے کرکٹ ویسٹ انڈیز کا نام لئے بغیرحیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے رشتے کو کب تک قائم رکھ سکتا تھا جس میں اسے برا بھلا کہا جارہا ہواور کیا اسے دیوار سے لگانے اور نام بدنام کرنے میں کسی کی بھلائی پوشیدہ تھی۔ اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کیرون پولارڈ نے اپنا دل ایک طرح سے کھول کر رکھ دیا، ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے کبھی بھی ٹوئنٹی 20 لیگز کو ملکی مفاد پر ترجیح نہیں دی۔

(کیرون پولارڈ کا یہ انٹرویو پاکستان کے سب سے کامیاب میگزین” اسپورٹس لنک”میں شائع کیا گیا تھا جسے یہاں انٹرنیٹ صارفین کیلئے پیش کیا گیا ہے)

کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ویسٹ انڈین کرکٹ میں اب آپ کا مستقبل کیا ہوسکتا ہے؟

میں اس بارے میں کچھ نہیںکہہ سکتا کہ ویسٹ انڈین کرکٹ میں مستقبل میں میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ میںجانتا ہوں کہ مجھے نیوزی لینڈ کی ٹی 20 سیریز کے لئے منتخب کیا گیا تھا لیکن چند ناگزیر ذاتی وجوہات کی بناء پر میںنے اپنا نام واپس لے لیا تھا، وہ ایسا معاملہ تھا جہاں میری شرکت ازحد ضروری تھی۔ ویسٹ انڈین سلیکٹرز کی جانب سے مجھے آخری اطلاع بذریعہ ای میل 3جنوری کو بھیجی گئی تھی جس میں مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ کیا میں رواں برس زمبابوے میں شیڈول ورلڈ کپ کوالیفائرز کے لئے دستیاب ہوں؟ انہوں نے مجھے جواب دینے کیلئے صرف4دن کی مہلت دی تھی جبکہ وہ جانتے تھے کہ میں پاکستان سپر لیگ سے پہلے ہی کنٹریکٹ کرچکا ہوں۔ مجھے اس کے بعد ان کی طرف سے کوئی پیغام موصول نہیں ہوا، یہی وجہ ہے کہ میں اس سوال کا خاطر خواہ جواب دینے کی پوزیشن میںنہیں ہوں۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب کرکٹ ویسٹ انڈیز سے ہی لیا جاسکتا ہے۔

کیا آپ نے ورلڈ کپ کوالیفائرز میں ویسٹ انڈیزکے لئے کھیلنے سے انکار کیا تھا؟

آپ کو جب تک سلیکٹ نہ کیاجائے تو آپ کھیلنے کی پیش کش سے انکار کر ہی نہیںسکتے۔ ای میل میں مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ کیا میںدستیاب ہوں اور اگر ہوں تو مجھے ریجنل سپر50میں کھیلنے کی ضرورت ہے۔ میںنے انہیں جواب دیا تھا کہ میں سپر50میںشرکت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ میری ان سے کوئی بالمشافہ بات چیت نہیں ہوئی تھی جیسا کہ کرکٹ ویسٹ انڈیز کی طرف سے دعویٰ کیا جارہا ہے۔

انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ کوالیفائرز اور پاکستان سپر لیگ کی تاریخیں ایک دوسرے سے متصادم تھیںاور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ لڑکے پاکستان سپر لیگ کھیلنے کے لئے تیار بیٹھے تھے مگر انہوںنے تو ہمارے ساتھ کوئی رابطہ ہی نہیںکیا۔ مجھے 2016میں ویسٹ انڈیز کی ایک روزہ ٹیم سے ڈراپ کیا گیا تھا۔ اس کے بعدکہہ نہیں سکتاکہ مجھے کب اور کس طرح ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔

سلیکٹرز اس کے باوجود مجھ سے پوچھ رہے ہیںکہ کیا میں دستیاب ہوں؟ انہوںنے یہ بھی نہیںبتایا کہ مجھے سلیکٹ کرلیا گیا ہے۔ ایسا نہیںکہ انہوں نے کہا ہو کہ مجھے سلیکٹ کرلیا گیا ہے اور میں نے انہیں انکا رکیا ہویا کہا ہو کہ میں نہیں کھیلنا چاہتا،ایسا کبھی نہیں ہوا۔ انہوںنے جس کو چاہا کنٹریکٹ دیا جس کی وجہ سے ہماری کوئی ذمہ داری نہیں بنتی۔ ہمیں اب کیا کرنا چاہیے؟ کیا ہم بیٹھ کر انتظار کریں؟ یہ ممکن نہیں ہے۔ کھیلنا شوق کے ساتھ ہمارا پیشہ بھی ہے۔ ہم کسی میز کے پیچھے نہیں بیٹھتے کہ 60سال کی عمر میں ریٹائر ہوجائیںگے۔

آپ کو 4دن میںجواب دینے کی ای میل کس نے بھیجی تھی؟

یہ ای میل سلیکٹرز چیئرمین براؤن نے 3جنوری کو بھیجی تھی۔ میںنے اسے فوری طور پر دیکھا تھا۔ اس نے 7جنوری کو واٹس اپ پر بھی پیغام بھیجا اور کہا کہ اسے اپنی ای میل کا جواب دن ڈھلنے سے پہلے درکار ہے۔ میں حقیقت میں اس وقت تک اپنی دستیابی کے متعلق کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں تھا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ میں پہلے ہی پاکستان سپر لیگ سے کنٹریکٹ کرچکا ہوں۔ آپ کسی کنٹریکٹ کو سائن کرکے اپنی دستیابی کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اس کے لئے کسی باہمی مشاورت کی ضرورت تھی لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔

آپ نے براؤن کو کیا جواب بھیجا؟

میں نے اپنی ای میل میں کہا کہ میں نے ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوبیگو کے کوچ سے بات کی ہے، اسے اپنے پہلے سے موجودبگ بیش اور پاکستان سپر لیگ کنٹریکٹس کے بارے میں بتایا ہے جس کی وجہ سے میں سپر50میں شریک نہیں ہوسکوں گا۔ میرے پاس بگ بیش ٹیم میلبورن رینی گیڈز کا کنٹریکٹ تھا جو جنوری22سے فروری4تک تھا جس کے بعد فروری22سے مارچ 25تک پاکستان سپر لیگ کا کنٹریکٹ ہے۔

آپ کواگر کوالیفائرز کے لئے منتخب کرلیا جاتاتوکیا اس سے کوئی فرق پڑ سکتا تھا ؟

یقیناً اس سے بہت فرق پڑ سکتا تھا۔ کسی کو اگر منتخب کرلیا جائے تو اس سے نمایاں فرق پڑتا ہے۔ آپ کے پاس فیصلہ کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔ میں اگر کہہ دوں کہ میں دستیاب ہوں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہوتا جب تک پتہ نہ چل جائے کہ مجھے یقینی طور پر منتخب کرلیا جائے گا۔

ہم اگر فرض کرلیں کہ سلیکٹرز آپ کو منتخب کرلیتے تو کیا آپ کوالیفائرز کھیلنے کے لئے تیار ہوتے؟

ٹھیک ہے، یہ ایسا معاملہ ہے جس پر ہم ایک دوسرے سے بات چیت کر سکتے ہیں۔ میں انہیںبتاتا کہ آپ نے مجھے سلیکٹ کرلیا ہے لیکن میرے پاس کنٹریکٹ ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ ہم اس کی موجودگی میں کیا حکمت عملی اپنا سکتے ہیں؟ میرے آگے جانے کے لئے آپ کے پاس کیا منصوبے ہیں؟ آپ ایسا نہیں کرسکتے کہ جب چاہیں مجھے منتخب کریں اور جب چاہیں ڈراپ کردیں۔ کرکٹ میری فیملی کی روزی روٹی ہے۔ لوگ تو آسانی سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملک کے لئے کھیلنا آپ کی ضرورت ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن کسی کھلاڑی کے مستقبل سے کھیلا نہیں جاسکتا۔

آپ نے اپنا تمام غصہ اپنے انسٹاگرام میں نکال دیا ہے جس میں صورت حال پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کیا، کیا بتائیں گے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟

میں حقیقت میں بہت زیادہ جذباتی ہوگیا تھاکیونکہ ویسٹ انڈیز کرکٹ میں ایسا مسلسل ہورہا تھا۔ میں نے 2007سے کھیلنا شروع کیا تھا جب کھلاڑیوں کے ساتھ مشاورت نہیں کی جاتی تھی اوراب 2018چل رہا ہے اور صورت حال سدھرنے کے بجائے مزید بگڑ رہی ہے۔


آپ نے اکتوبر2014سے جون 2016تک ویسٹ انڈیز کے لئے کوئی ایک روزہ انٹرنیشنل میچ نہیں کھیلا تو کیاآپ کو اپنے کیریئر کے خاتمے کا خوف تھا؟

میں حقیقت میں کافی پریشان تھا۔ سلیکٹرز پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ وہ براوو اور پولارڈ سے آگے دیکھ رہے ہیں۔ وہ آئندہ سال2019کے ورلڈ کپ کے متعلق سوچ رہے ہیں لیکن دو سال بعد مجھے 2016کی آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے خلاف سہہ ملکی سیریز میںشامل کرلیا گیا تھا جس میں میری پرفارمنسز قابل ستائش تھیں۔

اکتوبر میں پاکستان کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہمارا دورہ ناکام گیا تھا جس کی ٹی 20 سیریز اور ایک روزہ انٹرنیشنل سیریز میں 3-0سے ہار گئے تھے۔ دورے کے اختتام پر فل سمنز کو کوچ کے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ کوئی بھی یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا تھا کہ ہمارے ارد گرد کیا ہورہا ہے۔ تمام فیصلے کرکٹ ویسٹ انڈیز کے ہیڈ کوارٹر اینٹیگا سے صادر ہورہے تھے۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ان فیصلوں کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

آج (یکم مئی) کی اہم کرکٹ اپ ڈیٹس

’اسپورٹس لنک‘ ویب سائٹ اپنے قارئین کو دن بھر کی اہم کرکٹ خبروں سے باخبر …

error: Content is protected !!