ہوم / ٹاکرا / انفرادی کارکردگی میں سری ناتھ، چمنداواس سے آگے رہے

انفرادی کارکردگی میں سری ناتھ، چمنداواس سے آگے رہے


حریف ٹیموں کے ملتی جلتی صلاحیتوں کے حامل دو کھلاڑیوں کے ایک ساتھ کھیلے گئے میچوں کے نتائج اور اُن میں دونوں پلیئرز کی انفرادی کارکردگی کے موازنے پر مشتمل سلسلے ’’ ٹاکرا‘‘ میں اس ہفتے سری لنکا کے فاسٹ بولر چمنداواس اور بھارت کے پیسر جواگل سری ناتھ کو شامل کیا جارہاہے جنہوں نے 90sء کی دہائی کے درمیانی حصے میں اپنی ٹیموں کے اسٹرائک بولرکے طورپر کردارنبھایاتھا۔

ٹیسٹ ٹاکرا:
چمنداواس اور جواگل سری ناتھ کی بہ یک وقت اپنی اپنی ٹیموں میں موجودگی میں سری لنکا اور بھارت کی ٹیمیں مجموعی طورپر چار ٹیسٹ میچوں میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئی تھیں جن میں صرف ایک ہی ٹیسٹ فیصلہ کن ثابت ہوسکا جس کا نتیجہ سری لنکا کے حق میں نکلا۔یوں نتائج کے اعتبار سے چمنداواس کا سری ناتھ پر پلڑا بھاری رہا۔


ان چار ٹیسٹ میچوں میں بھارتی پیسر جواگل سری ناتھ نے سب سے زیادہ 14وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ ان میچوں میں حیران کن طور پر سری لنکن اسٹرائک بولر کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی جو چارمیچوں کی چھ بولنگ اننگزمیں 2/80کی بیسٹ کارکردگی سمیت صرف پانچ ہی وکٹیں حاصل کرکے ان میچوں کے کامیاب بولروں کی فہرست میں دسواں نمبر حاصل کرسکے جبکہ دیگر بولرزاُن سے کم میچز کھیل کر وکٹوں کی دوڑ میں اُن سے آگے رہے۔

ان میچوں میں دونوں بولروں کی کارکردگی میں زمین وآسمان کا فرق رہا۔ سری لنکن بولرنے فی وکٹ کیلئے نسبتاً 46رنز زائد دئیے جو جواگل سری ناتھ کے مقابلے میں تقریباً تین گنازائد رنز تھے جبکہ اُس نے فی وکٹ کیلئے 164سے زائد گیندیں پھینکیں جبکہ سری ناتھ نے یہ کام اوسطاً ہر 50ویں گیند پر کیا۔یو ں ایک ساتھ کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں میں انفرادی کارکردگی کی دوڑ میں چمنداواس کہیں پیچھے رہے۔

بولرہونے کے سبب جواگل سری ناتھ اور چمندا واس کو ٹیل اینڈرکے طورپر ہی بیٹنگ کرنا ہوتی تھی جہاں کسی کو زیادہ اُمیدنہیں ہوتی۔بہرحال بیٹنگ میں جواگل سری ناتھ آگے رہا جس نے 15*رنزکی اننگز سمیت 37رنزبنائے جبکہ چمنداواس کی کارکردگی 19رنز تک محدود رہی جن میں اُن کی 13رنزکی ’بیسٹ‘ اننگز شامل تھی۔


ون ڈے ٹاکرا:
ٹیسٹ میچوں کے برعکس چمنداواس اور جواگل سری ناتھ کی بہ یک وقت کھیلے گئے سری لنکا-بھارت ون ڈے میچوں میں بھارتی ٹیم کا پلڑا کہیں بھاری رہا جس نے 23میں سے 13میچز اپنے نام کئے جبکہ چمنداواس نے صرف سات بار ان مقابلوں میں فاتح بننے کا مزہ لیا۔ان دونوں بولروں کی موجودگی میں بھارت اور سری لنکا کے مابین کھیلے گئے تین میچز بارش کی نذر بھی ہوئے۔

ایک ساتھ کھیلے گئے 23ون ڈے میچوں میں بھی بھارتی بولر جواگل سری ناتھ اپنے حریف سری لنکن پیسر سے آگے رہے جو ان مقابلوں میں سب سے زیادہ 26 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے جبکہ سری لنکن پیسر 19 وکٹوں کے ساتھ دوسرے نمبرپر رہے۔

سری ناتھ نے ان مقابلوں میں دو بار اننگزمیں چارچار وکٹیں لی تھیں جبکہ چمنداواس ایک باربھی ایسی کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے جبکہ اُس نے فی وکٹ کیلئے اوسطاً 12 زائد رنز اور 12زائد گیندیں بھی پھینکیں۔

ون ڈے میچوں میںرنز ہی واحد شعبہ تھے جس میں چمنداواس بہتر رہے البتہ مجموعی اعدادوشمار زیادہ اچھے نہ تھے کیونکہ چار زائد اننگزکھیل کر وہ سری ناتھ کے مقابلے میں صرف ایک زائد رنزبناسکے تھے۔ سری لنکن ٹیل اینڈر نے 13اننگزمیں 23رنزکی اننگز سمیت85 رنز بنائے جبکہ سری ناتھ 9اننگزمیں84رنز بنانے میں کامیاب رہے۔

اسپورٹس لنک کے معروف سلسلے ’’ٹاکرا‘‘ کی یہ قسط انٹرنیٹ صارفین کیلئے پیش کی گئی ہے جبکہ ہر ہفتے نامور کھلاڑیوں کے’’ ٹاکرے ‘‘ اسپورٹس لنک میگزین میں ملاحظہ کریں


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

پی ایس ایل فائنل کیلئے ٹکٹس کی فروخت کا آغاز ہوگیا

شائقین کا انتظار ختم ہوا، 25 مارچ کو کراچی میں شیڈول پی ایس ایل فائنل …

error: Content is protected !!