ہوم / انٹرویوز / بطورآل رائونڈرشعیب ملک،محمد حفیظ کی جگہ لینے کیلئے تیار

بطورآل رائونڈرشعیب ملک،محمد حفیظ کی جگہ لینے کیلئے تیار


پاکستان کرکٹ ٹیم تقریباً آٹھ سال بعد کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم پر ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلی تو اس میں شامل کھلاڑیوں میں شعیب ملک ہی واحد کھلاڑی تھاجو آٹھ سال قبل اس گرائونڈپر کھیلے گئے آخری ٹوئنٹی20انٹرنیشنل میچ میں پاکستان ٹیم کا حصہ تھا۔

ٹیم کے سینئر ترین کھلاڑی ہونے کے ناطے شعیب ملک کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہے جنہیں اپنی ٹیم کیلئے اہم ترین کردار اداکرنا ہوتا ہے۔ بطور رول ماڈل نوجوان کھلاڑیوں کوگروم کرنا اُن کی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں اُن سے کی گئی مختصر بات چیت ذیل میں پیش کی جارہی ہے۔

محمد حفیظ پر بولنگ پابندی کے بعد پاکستان ٹیم کو ایک تجربہ کار اسپن آل رائونڈرکی اشد ضرورت ہے۔ کیا آپ اس حوالے سے کچھ کردار اداکرنے کا سوچ رہے ہیں؟

ہاں… کیوں نہیں! میں آل رائونڈر کا خلاء پرکرنے کیلئے پوری طرح تیار ہوں ۔جب سے میں نے پاکستان ٹیم میں کم بیک کیا ہے، تب سے ہر اُس موقع پر بولنگ کرائی ہے جب مجھے کہاگیاہے یا پھر ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جب بھی ضرورت پڑی میں نے پی ایس ایل میں بھی بولنگ کرائی ہے۔ میری ٹیم ،کپتان اور منیجمنٹ کو جب بھی میری بولنگ میں ضرورت ہوگی ،مجھے پوری طرح تیار پائیں گے۔ چاہے وہ بیٹنگ، بولنگ یا پھر فیلڈنگ ہو…

کیا آپ آجکل بولنگ کی پریکٹس کررہے ہو؟

ہاں! حالیہ عرصے میں ،میں نے بولنگ کی بہت زیادہ پریکٹس کی ہے اور میں خود کو آل رائونڈ ر ہی سمجھتاہوں ۔ٹیم منیجمنٹ بھی مجھے آل رائونڈر کے طور پر ہی لے رہی ہے ۔آپ کو شاید یادہوگا کہ میں نے بطور آف اسپنر ہی اپنے کیریئرکا آغاز کیاتھا تاہم بعدازاں2002ء میں مجھے اوپری نمبروں پر بیٹنگ کیلئے بھیجا جانے لگا۔

ویسٹ انڈین ٹیم کرس گیل، کیرون پولارڈ،سنیل نرائن اور جیسن ہولڈر اور کپتان کارلوس بریتھویٹ کے بغیر پاکستان آئی ہے تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وہ کافی کمزور ٹیم ہے…

نہیں ایسانہیں ہے…اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ٹیم کو اُن کے مقابلے میں زیادہ بہتر سائیڈ کہا جاسکتا ہے جسے ہوم کنڈیشنز کا ایڈوانٹیج بھی حاصل ہے۔ میں ویسٹ انڈیز میں چھ سال سے کیربیئن پریمئیرلیگ کھیل رہاہوں اور جیسا وہاں دیکھا ہے ، اُس کے مطابق آنے والی ٹیم کافی بہترین اور متوازن سائیڈ ہے۔

انہی کھلاڑیوں نے کیربیئن پریمیئرلیگ میں کافی اچھی کارکردگی دکھائی ہوئی ہے جو مل کر اچھا کمبی نیشن بناسکتے ہیں۔ہم اکثر بڑے ناموں کو دیکھتے ہیں لیکن بڑے ناموں سے نہیں ،کارکردگی سے میچز جیتے جاتے ہیں۔کامیابیاں ہمیشہ کھلاڑیوں کے اتحاد اور متوازن ٹیم سے ہی ملتی ہیں۔

حالیہ عرصے میں آپ جن کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں، اُن میں سے کس کس کا تابناک مستقبل دیکھ رہے ہیں؟

حسن علی، فخرزماں، محمد نواز،شاداب خان اور فہیم اشرف مجھے اُن عظیم کھلاڑیوں کی یاددلا تے ہیں جن کے ساتھ میں کھیل چکاہوں ۔یہ سارے کھلاڑی مستقل بنیادوں پر پرفارم کررہے ہیں اور بہتر سے بہتر ہوتے جارہے ہیں ۔ہمیں انہیں سپورٹ کرنا چاہیے خصوصاً مشکل وقت میں…دس ہزار رنز یا 400وکٹیں لینے والا کوئی بھی کھلاڑی پہلے ہی میچ سے اچھی کارکردگی دکھانا شروع نہیں کردیتا۔

بطور سینئر کھلاڑی آپ کس طرح ٹیم میں کردار اداکرسکتے ہیں؟

ایک سینئر کھلاڑی کو بہت بڑا کردار اداکرنا ہوتا ہے۔میں جونیئرزکو بتاتارہتاہوں کہ مختلف اور دبائو والی صورتحال میں کس طرح کھیلنے کی ضرورت ہوتی ہے اور دبائو سے نکلنے کیلئے کیا کیا جاتاہے۔

ٹوئنٹی20کرکٹ میں نوجوان بلے باز وں کو جیسی ہی بولنگ کرائو، وہ ہمیشہ بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔حالانکہ مختصر فارمیٹ میں بھی اننگز بنانے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ 20،25رنز کافی نہیں ہوتے بلکہ اسے 70،80رنزکی اننگزمیں تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔یہیں چیزیں ہیں جو ہمیں اپنے جونیئرز کو بتانا ہوتی ہیں۔


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

شعیب ملک نے ثانیہ مرزا کیلئے بڑی قربانی دیدی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے تجربہ کارآل رائونڈر شعیب ملک نے اپنی بیوی ثانیہ مرزا کیلئے …

error: Content is protected !!