ہوم / اعدادی حقائق / سرفرازاحمد کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

سرفرازاحمد کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی


ایشیاء کپ میں بدترین ناکامی کے بعد اگرچہ کچھ شائقین کرکٹ اور ماہرین کی جانب سے کپتان سرفرازاحمد تنقید اور اُنہیں قیادت سے ہٹانے کا مطالبہ بظاہرصحیح دکھائی نہیں دیتا کیونکہ اسی کپتان کی قیادت میں پاکستان ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں نمبرون بنی ہوئی ہے اور اسی کپتان نے آئی سی سی چیمپئنزٹرافی ہاتھوں میں تھام پر بائیس کروڑ عوام کے چہروں پر خوشیاں بکھیری تھیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان ٹیم کی ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں بڑھتی شکستیں اور ان دونوں فارمیٹس میں خراب ہوتی انفرادی کارکردگی نے سرفرازاحمد کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔

حالیہ ناکامیوں کے بعد عین ممکن ہے کہ آنے والے دِنوں میں اُن کے خلاف اُٹھنے والی آوازیں مزید بلند ہونے لگیں کیونکہ پاکستان ٹیم کے آگے اب آسٹریلیاکے بعد نیوزی لینڈکے خلاف یواے ای سیریز اور دورۂ جنوبی افریقہ کا کٹھن چیلنج موجود ہے جہاں کے خراب نتائج سرفرازاحمد کیلئے صورتحال کو یکسر بدل سکتے ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں شاندار کارکردگی اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی فتح کو اگرزیادہ دیر تک ذہن میں رکھ بھی لیاجائے تو کم ازکم حالیہ عرصے میں انفرادی کارکردگی سرفرازاحمد کا کیس خراب کرسکتی ہے جو وکٹوں کے آگے اور پیچھے ناکامیوں سے دوچار ہورہے ہیں۔اُن کی جانب سے نہ صرف کیچز ڈراپ اور اسٹمپڈ کے چانسز ضائع کرنے کا تناسب تواتر سے بڑھ رہاہے بلکہ اُن کے رنز بنانے کی اوسط بھی خاصی کم ہوتی جارہی ہے۔

بدترین بیٹنگ ناکامی

سرفراز احمد گزشتہ سال دورۂ ویسٹ انڈیز سے اب تک 9ٹیسٹ میچوں کی پندرہ اننگزمیں 68رنزکی بیسٹ اننگز سمیت تین ففٹی پلس اسکورز سمیت 22.26کی اوسط سے 334رنزبناسکا ہے ۔اس عرصے میں گیارہ دوسرے پاکستانی کرکٹرز اوسط میں اُن سے آگے ہیں جن میںشاداب خان، فہیم اشرف ،سمیع اسلم اور احمد شہزاد بھی شامل ہیں ۔

کپتان بننے کے بعد سرفرازاحمد کی کارکردگی میں مزید خرابی پیداہوئی ہے جو بطور کپتان چھ ٹیسٹ میچوں کی دس اننگزمیں اکلوتی ففٹی سمیت 19.30کی اوسط سے رنزبناسکا ہے اور یہ اپریل 2017ء سے ایک سے زائد ٹیسٹ میچز میں قیادت کا موقع پا نے والے دُنیاکے 16 کپتانوں میں محض سری لنکا کے سرنگالکمل کے بعد کسی بھی کپتان کی بدترین اوسط ہے۔ سرنگا لکمل ایک اسپیشلسٹ بولر ہے جس کی بیٹنگ اوسط کی گراوٹ کوئی معنی نہیں رکھتی ۔اس اعتبار سے سرفرازاحمد دورِ حاضرکا بدترین کپتان بن چکاہے جس کی اوسط 20رنز فی اننگز سے بھی نیچے ہے۔

کپتان بننے کے بعد وکٹ کیپر بیٹسمین کی کارکردگی اپنی بدترین سطح کوچھونے لگی ہے جو آخری دس اننگزمیں بطورکپتان محض 19.30کی اوسط سے رنزبناسکاہے جس میں صرف ایک ہی ففٹی پلس اسکور شامل ہے جو اُس نے سری لنکاکے خلاف بطور کپتان اپنی پہلی سیریزکی آخری اننگز میںبنایاتھا۔جس کے بعد2018ء کا سال اُس کیلئے مزید بدقسمتی ساتھ لایاجو اس کے پہلے دس ماہ میں اب تک چھ کوششوں میں 20 سے زائد رنزکی ایک بھی اننگز نہیں کھیل سکا۔

رواں برس اب تک چھ اننگز میں 12.33کی اوسط سے بنائے گئے محض 74رنز سرفراز احمد کیلئے بجنے والی خطرے کی گھنٹی میں مزید شدت پیدا کررہے ہیں۔جس کے ہاتھ سے وقت ریت کی طرح سرکتا جارہاہے تاہم فی الوقت اُس کے پاس کچھ وقت اور موقع موجود ہے جس میں وہ اچھی کارکردگی دکھاکرسب کچھ اپنے حق میں بدل سکتاہے وگرنہ کسی اور وکٹ کیپر بیٹسمین کی راہ کھلنے میں زیادہ دیرنہیں لگے گی!!

سرفرازاحمدپراعدادوشماراوردلائل پر مبنی مکمل مضمون ’اسپورٹس لنک ‘ کے آنے والے شمارے میں شائع کیاجائے گا۔ جس میں اُن کی کارکردگی اور دیگر پہلوئوں کا باریک بینی سے جائزہ پیش کیا گیاہے۔


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

سرفراز کا علاقہ بفر زون کیوں پوری دنیا میں مشہور ہے؟

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ کراچی کا علاقہ بفر …

error: Content is protected !!