ہوم / انٹرویوز / مداح بہت جلد میرے بیٹ سے رنزہوتے دیکھیں گے : سرفرازاحمد

مداح بہت جلد میرے بیٹ سے رنزہوتے دیکھیں گے : سرفرازاحمد


پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفرازاحمد اس وقت ٹی ٹوئنٹی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان ہیں جن کی قیادت میں پاکستان نے اب تک مختصر فارمیٹ کی کوئی سیریز نہیں ہاری ہے اور مسلسل گیارہ ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیاہے۔

وہ آئی سی سی ورلڈٹی ٹوئنٹی 2016ء کے بعد سے پاکستان ٹیم کی قیادت کررہے ہیں،وہ پابندی کے سبب جنوبی افریقہ کے خلاف گزشتہ ٹی ٹوئنٹی سیریزنہیں کھیل سکے تھے جس میں پاکستان کو ناکامی کا سامناکرنا پڑا جو اس عرصے میں گرین شرٹس کو ہونے والی واحد شکست تھی۔اب سرفرازاحمد کی قیادت میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پی ایس ایل 2019ء کا ٹائٹل جیتا ہے جو چارمیں سے تین سیزن میں ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلنے میں کامیاب رہی تھی۔

پی ایس ایل کے بعد سرفرازاحمدکو آسٹریلیاکے خلاف پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز کیلئے آرام دیاگیاہے تاکہ وہ تازہ دم ہوسکیں۔اُنہیں پہلے ہی ورلڈکپ 2019ء کیلئے کپتان مقرر کرنے کا اعلان کیاجاچکاہے۔اپنی تازہ بات چیت میں سرفراز احمد نے ٹیم کے ماحول، کھلاڑیوں سے تعلقات، میدان میں ہونے والی گرماگرمی سمیت کئی معاملات پر بات کی جویہاں قارئین کیلئے پیشِ خدمت ہے۔

آپ کی کپتانی اور کیریئر میں سب سے بڑا ’بوم‘ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی فتح تھی۔ یہ اعزاز پانے کے بعد آپ کے احساسات کیاتھے؟

وہ ایسالمحہ تھا جسے مجھ سمیت ٹیم کا کوئی بھی کھلاڑی بھول نہیں سکتا۔یہ لمحات ساری زندگی یادرکھے جانے والے ہیں۔اب بھی ہم جب کوئی ٹورکررہے ہوتے ہیں یا پھرگھر میں بیٹھے ہوئے سوشل میڈیا پرپوسٹیں اسکرول کررہے ہوتے ہیں تو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے کوئی نہ کوئی پوسٹ یا ویڈیو سامنے آجاتی ہے،جسے دیکھتے ہی جس میں حرارت سی آجاتی ہے۔ وہ ہمارے کیرئیرکا ایسا لمحہ تھا جسے زندگی میں کوئی بھی نہیں بھول سکتا اور نہ ہی وہ یادیں ذہن میں مدھم ہوسکتی ہیں۔

آپ کرکٹ میں بہت ہی زیادہ چُست نظر آتے ہیں، ہرکھلاڑی پر نگاہ رکھتے ہیں اور اُن سے ’ڈومور‘ کا مطالبہ کرتے ہیں حتیٰ کہ آپ کی بیگم بھی کہہ چکی ہیں جب کسی میچ کی جھلکیاں چل رہی ہوتی ہیں تو آپ بے ساختہ کہہ اُٹھتے ہیں کہ یہاں ہم سے غلطی ہوئی تھی، یہاں ہم اور اچھا کرسکتے ہیں۔ آپ گھر میں بھی ’کپتان‘ بنے رہتے ہیں… کھیل میں اتنا زیادہ مگن ہونے کے پیچھے کیا جذبہ ہے، کونسی چیز آپ کو اتنی محترک رکھتی ہے؟

ہاں!… اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ جب ہم میچ کھیل کر ہوٹل کے کمرے میں واپس جاتے ہیں تو میچ کی جھلکیاں ہی دیکھتے ہیں اور اپنی خامیاں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کی عادت سی بن گئی ہے اور عام حالات میں بھی ایسا ہی ہوتا رہتاہے۔ میری بیگم جب بھی ہوٹل میں ساتھ ہوتی ہیں تو یہی کہتی ہیں کہ کیا ہوگیا ہے…جب میچ ختم ہوگیاہے تو جھلکیاں کیوں دیکھ رہے ہیں ؟ …تو میں اُسے یہی کہتاہوں کہ تمہیں کیا معلوم ہے کہ اس سے مجھے کتنا فائدہ ہوسکتاہے۔ ہم اپنی خامیوں کو ڈھونڈسکتے ہیں ایسی ویڈیوز دیکھ کر…

بیگم کیلئے تو میچ ختم ہوتے ہی سب ختم ہوگیاناں لیکن ہمارے لئے تو اگلے میچ کی ٹینشن شروع ہوجاتی ہے کہ وہاں کیسے کھیلنا ہے، کیا پلاننگ کرنی ہے وغیرہ، وغیرہ…ویسے جس میچ میں ،میں خودرنزکئے ہوں، اُس کی جھلکیاں دیکھنے کا بہت ہی زیادہ مزہ آتاہے۔

آپ پر کافی تنقید کی جاتی ہے کہ ٹیم تو جیت رہی ہے لیکن سرفراز رنزکیوں نہیں کررہا… ان باتوں کا پریشر لیتے ہیں آپ؟

دیکھیں… اس بات سے کوئی انکارنہیں کرسکتا کہ جب رنزنہ بن رہے ہوں تو ہرکوئی پریشر لیتاہے، کوئی نہ بھی کہے مگر پھر بھی دبائوآجاتاہے کیونکہ رنز کرنے کیلئے بہرحال! کسی نہ کسی طورپر دبائو ہوتاہے۔ میں بھی دبائو لیتاہوں۔ظاہرہے کہ میں بھی کوشش کررہا ہوتاہوں۔

اب ایسا تو نہیں ناں کہ میں خود سے رنز نہیں کرنا چاہ رہا۔ماضی میں رنز کئے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ میں دوبارہ بھی ایسا کرسکتاہوں لیکن حالیہ عرصے میں قسمت نے زیادہ ساتھ نہیں دیالیکن میرے لئے اطمینان بخش بات پاکستان ٹیم کی فتوحات ہیں۔ میں نے اپنے بیٹنگ کوچ سے کافی صلاح مشورے کئے ہیں۔ اُمیدہے کہ جلد میرے بیٹ سے بڑی اننگز آپ کو دیکھنے کو ملیں گی۔

آپ کے حوالے سے ہمیشہ ہی یہ نقطہ اُٹھایا کہ آپ چوتھے نمبرپر بیٹنگ کیوں نہیں کرتے؟ خاص طورپر ٹی ٹوئنٹی میچز میں اس نمبرپر مستقل بیٹنگ کرتے ہیں حالانکہ چوتھے نمبرپر آپ کی کارکردگی خاصی اچھی رہی ہے؟

اگر آپ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لحاظ سے دیکھیں تو میں نیوزی لینڈٹور سے مسلسل چوتھے نمبرپر ہی بیٹنگ کررہاہوں لیکن ون ڈے میچ میں حفیظ بھائی اور شعیب بھائی چوتھے اور پانچویں نمبرپر کھیل رہے ہیں۔ تو ٹیم کی ایسی صورتحال اور ضرورت ہوتی ہے کہ میرا نمبر نیچے چلاجاتا ہے۔ضرورت کے وقت ہمیں اکثر نمبر آگے پیچھے کرنا پڑتے ہیں۔ بہرحال! میری اپنی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ٹی ٹوئنٹی میں چوتھے جبکہ ون ڈے کرکٹ میں پانچویں نمبرپر بیٹنگ کروں۔

نیوزی لینڈکے ٹور میں آپ نے مارٹن گپٹل کو کھری کھری سنادی تھیں جسے مائیک پر لاکھوں ناظریں نے سُنا تھا۔وہ اصل واقعہ تھا کیا؟

اُس وقت ہمارے خلاف تیزی سے رنز بن رہے تھے ،میں غصے میں تھا۔چھٹے اوورمیں، میں نے شاداب خان کو بولنگ دی تو اُسے چھکا پڑگیا اور گیند میدان سے باہرجاگری جس پر امپائرزکو گیند تبدیل کرنا پڑی۔ امپائر زعموماً گیند تبدیل کرتے وقت کپتان کو دکھاتے نہیں ہیں اور جب شاداب خان کو بولنگ کرانے کیلئے گیند ملی تو وہ گیند لیکر میرے پاس آیا کہ ’سیفی بھائی! یہ تو بالکل نیا بال ہے‘‘۔

اس پر میں نے امپائر سے بات کی جس پر مجھے کافی غصہ آیاہواتھا کہ اُس نے نیا گیند کیوں دیا۔اتنے میں مارٹن گپٹل بول پڑا کہ دس اوورز سے قبل گیندگم ہوجائے تو گیند نیا ہی آتا ہے۔میں پہلے ہی غصے میں تھا پھر میں نے مارٹن گپٹل سے جوکہا وہ مائیک کے ذریعے دُنیا نے سُنا۔
اچھا کیا کہاتھا آپ نے گپٹل سے؟

(ہنستے ہوئے)…بس! جنہوں نے سُن رکھا ہے، وہی کافی ہے۔ میں اب یہی دوبارہ نہیں دُہرانا چاہتا۔

اچھا…آپ وکٹوں کے پیچھے کھڑے ہوکر شاداب خان کو اکثرکہہ رہ ہوتے ہیں کہ ’پہلے پکاکرو، پہلے بنائو‘… اس کا کیا مطلب ہوتاہے؟

دیکھیں…جب کوئی نیا بیٹسمین آتاہے تو یہی سوچ رہاہوتاہے کہ شاداب اُسے گگلی پھینکے گا جس کیلئے وہ تیا رہوتاہے لیکن میں شاداب کو یہی کہہ رہا ہوتا ہوں کہ ابھی گگلی نہ کرائو،اسے پہلے پکاکروکہ اُسے یقین ہوجائے کہ ابھی آپ اُسے گگلی نہیں کرائو تھے تو پھر ’بنائو‘ کا مطلب …ماموں بنائو اور اچانک گگلی پھینک دو۔

آپ نے اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ ’پیار اور ڈانٹ‘ کا بہترین توازن رکھاہواہے۔ میدان میں اُن پر چِلاتے ہیں تو میدان سے باہر اُن سے اچھا تعلق بھی ہے۔ یہ حکمت عملی کے تحت آپ نے توازن رکھاہوا ہے؟

دیکھیں…اس حوالے سے سب سے اچھی بات تو یہ ہے کہ اس ٹیم میں جتنے بھی لڑکے ہیں، سبھی بہت اچھے ہیں۔ یہ لوگ چیزوں کو سمجھتے ہیں اور اب مجھے بھی اچھی طرح سمجھ گئے ہیںکہ میں کیوں اتنا چیختا اور چِلاتا ہوں۔ میں یہ چیز اچھی طرح سمجھتاہوں کہ ٹیم کو اچھے انداز میں چلانے کیلئے کھلاڑیوں پر کپتان اور کپتان کا اپنے کھلاڑیوں پر بھرپور اعتماد بہت ضروری ہے۔

اگر دونوں میں اچھی انڈراسٹینڈنگ ہوگی تو دونوں ایک دوسرے کی پوزیشن اور بات کوفور ی سمجھ سکتے ہیں ۔ اگر کھلاڑی کوکوئی مسئلہ ہوگا تو وہ کپتان سے بلاجھجھک آکر کہہ گا کہ یار! مجھے یہ پرابلم ہے۔ یہ اچھی چیز ہے کہ بجائے کہ ہم یہ باتیں کوچ یا کسی اور کے ذریعے کہلوائیں،ہم خود ہی آپس میں مسئلہ حل کرلیتے ہیں۔ گرائونڈکی باتیں گرائونڈ میں رہ جاتی ہیں، گرائونڈ سے باہر آتے ہی وہاں کی ساری باتیں ہم ختم کرکے ہی باہر آتے ہیں۔

اچھا آپ کلب لیول یا ٹاپ لیول پر بولنگ کراتے ہیں ویسے؟
کرائی تھی ناں شاہدآفریدی کی فائونڈیشن کے میچ میں…جس میں خان بھائی نے مجھے پانچ چھکے مارے تھے، مجھے کافی غصہ آیاتھااس پر…

آجکل کرکٹ بہت زیادہ ہورہی ہے، سیریز کے اوپرسیریز، دوروں کے اوپر دورے… تو کتنا مشکل ہوتاہے اپنے گھر اور فیملی سے دوررہنا…

ہم لوگ جب ٹیم میں نہیں ہوتے تو یہی بولتے ہیں کہ یار! ٹیم میں کب واپس آئیں گے ،کب چانس ملے گا اور جبٹورزپہ ہوتے ہیں تو یہی باتیں کررہے ہوتے ہیں کہ گھر کب جائیں گے، گھرجب جائیں گے۔ دیکھیں!… اب کرکٹرزکا کیریئر مختصرہوتا جارہا ہے کیونکہ کرکٹ بہت فاسٹ اور زیادہ ہوگئی ہے۔ زیادہ سے زیادہ سات، آٹھ سال کھیل لیں گے۔ میرا خیال ہے کہ کھلاڑیوں کو کیرئیرزکے دوران پورا فوکس کھیل پر ہی رکھنا چاہیے کیونکہ جب ہم نہیں کھیل رہے ہوں گے تو پورا وقت اپنی فیملیز کو ہی دیں گے اور کہاں جائیں گے۔

ظاہر ہے کہ کھلاڑیوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد 9 سے 5والی جاب تو نہیں کرنی ناں…کسی نے کوچنگ ،کمنٹری یا اپنا کاروبار کھولنا ہے۔تو پھر فیملی ہوگی اور آپ ہوں گے…

اچھا آپ نے کرکٹ کے بعد کوچنگ کرنی ہے؟
یار…پہلے میں کرکٹ تو پوری کھیل لوں… ہاں!… ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں ایسا کچھ ہوجائے لیکن ابھی کچھ نہیں سوچا۔
ٹورز کے دوران آپ کو بیٹا عبداللہ کتنا تنگ کرتاہے؟

تنگ توخیر نہیں کرتا…یقین کریں جب وہ ساتھ ہوتا ہے کہ مجھے ایسا لگتاہے کہ میرے اندر کوئی غیبی طاقت آگئی ہے۔میں خودکو کافی ریلیکس محسوس کرتا ہوں۔جس ٹورمیں وہ نہیں ہوتا تومیں اُسے کافی مس کرتاہوں۔
وہ اگرآپ کیلئے اتنا مددگارہے تو پلیز! اُسے ورلڈکپ کیلئے بھی ساتھ لے جانا…
ہاہا……انشاء اللہ!

دیگر اہم اسٹوریاں پڑھیں


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

میری ٹیم کا کوئی ایک نہیں کھلاڑی ٹرم کارڈ ہے :سرفراز احمد

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز حمد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا …

error: Content is protected !!