ہوم / پلیئرآف دی ویک / معین علی نے اپنی واپسی کو یادگار بنالیا

معین علی نے اپنی واپسی کو یادگار بنالیا


گزشتہ ہفتے (26اگست تا2ستمبر 2018ئ) کے دوران افغانستان اور آئرلینڈ کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنلزاور یواے ای ونیپال کے درمیان ایک ون ڈے میچ کے علاوہ انگلینڈ اور بھارت کے درمیان سائوتھمپٹن میں سیریزکا چوتھا ٹیسٹ میچ کھیلا گیا ۔ان پانچ انٹرنیشنل میچز میں صرف ایک ہی سنچری بنی جو بھارت کے چیتشورپجارا نے 132*رنز(ناٹ آئوٹ) کی صورت میں بنائی۔

اس کے علاوہ آئرلینڈ کے بالبرنی نے 60رنزکی اننگز سمیت تین میچز میں 132،آٹھویں نمبرپر کھیلنے والے انگلش آل رائونڈر سام کرن نے 78رنزکی اننگز سمیت دو باریوں میں124رنزبنائے جبکہ بھارتی کپتان ویرات کوہلی 58رنزکی اننگز سمیت دو باریوں میں 104رنزبناسکے۔

بولرز میں معین علی 5/63کی عمدہ کارکردگی سمیت سائوتھمپٹن ٹیسٹ میں 9وکٹیں لینے میں کامیاب رہے جوچوتھے ٹیسٹ میں انگلینڈکی فتح کی اہم ترین وجہ بنی۔ یہ گزشتہ ہفتے کے دوران کھیلے گئے پانچ میچزمیں 5+وکٹوں کی اکلوتی کارکردگی تھی۔معین علی کیلئے اس کارکردگی کی اہمیت اس اعتبار سے بھی زیادہ ہے کہ یہ اُن کا کم بیک میچ تھا اور پھر اُس کی یہ کارکردگی انگلینڈکو سیریزمیں جتوانے کا بھی سبب بنی۔

گوکہ گزشتہ ہفتے کے دوران تین ون ڈے میچزکھیل کر 4/30کی کارکردگی سمیت 11.11کی شاندار اوسط سے آئرش میڈیم پیسر ٹم مرٹاگ نے 9وکٹیں لیں جبکہ گزشتہ ہفتے کا پلیئر آف دی ویک راشد خان بھی تین میچز میں آٹھ وکٹیں لینے میں کامیاب رہا لیکن ہم اس نے اس ہفتے کے ’’پلیئرآف دی ویک‘‘ کیلئے معین علی کا ہی انتخاب کیا ہے۔

پلیئر آف دی ویک – معین علی (49رنز،9وکٹیں)

جون 2014ء میں سری لنکا کے خلاف لارڈز کے تاریخی کرکٹ اسٹیڈیم پر ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے 31سالہ معین علی نے اب تک 51 ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈکی نمائندگی کرلی ہے جن میں وہ پانچ سنچریوں اور بارہ نصف سنچریوں سمیت 32.20کی عمدہ اوسط سے ڈھائی ہزار سے زائد رنزبناچکے ہیں جبکہ اس کے ساتھ 142وکٹیں بھی اُن کے کھاتے میں درج ہوچکی ہیں جن میں اننگزمیں پانچ وکٹوں کے پانچ کارنامے بھی شامل ہیں ۔

آف اسپنر کی حیثیت سے ٹیم میں شامل ہونے والے معین علی نے اپنے پہلے دو میچوں میں گیند سے بڑاکمال نہیں کردکھایا تھا لیکن دوسرے ہی ٹیسٹ میں 108*رنزکی ناقابل شکست اننگز کھیل کر سب کو حیران کردیاتھا۔اس کارکردگی نے اُن پر آل رائونڈر کا ٹیگ لگوایا جس کے بعد اگرچہ معین علی کو اپنی دوسری سنچری کیلئے لگ بھگ دوسال اور28ٹیسٹ میچوں کا انتظار کرنا پڑامگر اس دوران اُس نے 6/67کی شاندار کارکردگی سمیت 77وکٹیں لیکر ٹیم میں جگہ بنائے رکھی۔

جولائی 2017ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف لارڈز میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے اور کیریئر کے 38ویں ٹیسٹ میچ میں معین علی نے 100وکٹوں اور دو ہزار رنز کا’ڈبلز‘ مکمل کیا ۔اس سیریز کے چار میچز میں انہوں نے 6/53کی کیریئر بیسٹ کارکردگی دکھانے سمیت 36رنز فی اننگز کی اوسط سے 252رنزبنائے۔یہ کارکردگی انہیں ٹیسٹ کیرئیرکا اکلوتا مین آف دی سیریزایوارڈ دلوانے کا سبب بنی۔

جنوبی افریقہ کے ہوم سیریزمیں شاندار کارکردگی دکھانے کے بعد معین علی کی کارکردگی میں حیران کن جھول آیا جو ویسٹ انڈیزکے خلاف تین اور آسٹریلیاکے خلاف پانچ ٹیسٹ میچز کی ایشز سیریزمیں صرف پانچ،پانچ وکٹیں ہی لے سکا۔جس کے سبب کپتان اور سلیکٹرزکا اُس پر سے اعتبار اُٹھ گیا۔بھارت کے خلاف جاری حالیہ سیریز کے پہلے تین ٹیسٹ میچوں سے باہررہنے والے معین علی کوکائونٹی کرکٹ میں شاندار کارکردگی کی بدولت چوتھے سائوتھمپٹن ٹیسٹ میں طلب کیا گیا جس میں 40اور 9رنزکی اننگز کھیلنے کے علاوہ 5/63اور 4/71کی عمدہ کارکردگی دکھاکرمین آف دی میچ ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے اپنی واپسی کو یادگار بنالیا۔

یہ اُن کے ٹیسٹ کیریئر کا چھٹا مین آف دی میچ ایوارڈ ہے جن میں سے آدھے ایوارڈز اُس نے جنوبی افریقہ کے خلاف حاصل کئے جبکہ بھارت کے خلاف و ہ دوسری بار اس ایوارڈ کے مستحق ٹھہرے۔


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

دورۂ انگلینڈ: 5غلطیاں جو بھارت کو لے ڈوبیں

بھارتی کرکٹ ٹیم کو ایک بار پھر دیار غیر میں منہ کی کھانا پڑی، انگلینڈ …

error: Content is protected !!