ہوم / تجزیئے و جائزے / شعیب ملک کی ورلڈ کپ اسکواڈ میں شمولیت پر سوالیہ نشان؟

شعیب ملک کی ورلڈ کپ اسکواڈ میں شمولیت پر سوالیہ نشان؟


ممکن ہے کہ یہ صرف چھٹی حس کا معاملہ ہی ہو جو اس بات سے خبردار کر رہا ہے کہ آنے والے عرصے میں کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ کچھ لوگوں کی نگاہ میں ورلڈ کپ کے دوران ممکنہ قیادت کے سپنے آنکھوں میں سجائے آگے بڑھنے والے شعیب ملک کے سامنے سے نہ جانے کون سی کالی بلی گزر گئی ہے کہ ان کے ساتھ سب کچھ غلط ہوتا جا رہاہے۔

یہ کافی حیران کن امر ہے کہ آسٹریلیا کیخلاف سیریز میں آرام کرنے والے سرفراز احمد کی جگہ قومی ٹیم کی قیادت سنبھالنے والے آل راؤنڈر شعیب ملک کی ورلڈ کپ اسکواڈ میں شمولیت پر سوالیہ نشان لگ گیا کیونکہ حالیہ عرصے کے دوران ون ڈے میچوں میں اوسط درجے کی کارکردگی کے بعد آسٹریلیا کیخلاف تیسرے ون ڈے میں پسلی کی انجری نے ان کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے جن کی جگہ آسٹریلیاکے خلاف سیریز کے آخری دو میچز میں عماد وسیم کو کپتانی سنبھالنا پڑی ۔

سچائی یہی ہے کہ شعیب ملک کیلئے میگا ایونٹ تک رسائی کافی مشکل ہو چکی ہے اور اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ان کی میگا ایونٹ میں شرکت کے ساتھ کھیل سے رخصتی کی خواہش دم توڑ سکتی ہے۔اگر شعیب ملک کی انجری کو ایک جانب رکھ دیا جائے تو تب بھی ان کی مجموعی کارکردگی کم از کم اس قابل نہیں کہ انہیں میگا ایونٹ میں بھیجا جا سکے کیونکہ سینئر پلیئر کی حیثیت سے بھی وہ اپنا فتح گر کردار نبھانے میں ناکام رہے ہیں۔

اہم ترین بات یہ ہے کہ ورلڈ کپ کیلئے کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ 14اپریل کو ہونا ہیں جن سے قبل شعیب ملک کو اپنی فٹنس بحال کرنی ہوگی ورنہ ان کیلئے راستے بند ہونے میں ذرا بھی دیر نہیں لگے گی اور اب انہیں کسی بھی انہونی کیلئے تیار ہو جانا چاہئے کیونکہ ٹیم سلیکشن پر عدم اطمینان اور پاکستانی ٹیم کی حالیہ ناقص کارکردگی کی اطلاعات بہت اوپر تک جا چکی ہیں اور پی سی بی حکام کو ہدایات پر عمل کرتے ہوئے جس کو بھی کھڈے لائن لگانا پڑا وہ گریز نہیں کریں گے جبکہ شعیب ملک کے اپنے ’’کارنامے‘‘بھی اس قابل نہیں کہ ان پر اہم مواقع کیلئے چانس لیا جائے۔

اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو شعیب ملک کی غیر مستقل مزاجی کے ساتھ کارکردگی اُن کے ورلڈکپ کھیلنے کے امکانات کو کم کررہی ہے اور اب ان کے نام کے ساتھ آل راؤنڈر کا ’’شوشا‘‘لگانا بھی موزوں نہیں لگتا کیونکہ وہ ان جانے خوف کے باعث بالنگ سے گریز کرتے ہوئے خود کو آل راؤنڈرز کی درجہ بندی سے باہر کرتے جا رہے ہیں۔

گزشتہ 26 ون ڈے میچوں میں شعیب ملک صرف تین نصف سنچریوں کی مدد سے 555 رنز بنا سکے ہیں جس میں ان کی اوسط اور اسٹرائیک ریٹ اس بات کی نشاندہی نہیں کر رہا کہ وہ موجودہ ٹیم میں سینئر پلیئر کا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں جس کی بنیاد پر ان کے ورلڈ کپ جیسے اہم ٹورنامنٹ میں کسی کردار کا تعین کیا جا سکے۔

کیریئر کے 282 ون ڈے میچوں میں 7481 رنز بنانے اور 156 وکٹیں حاصل کرنے والے شعیب ملک نے اپنی آخری سنچری ویسٹ انڈیز کیخلاف اپریل 2017ء میں بنائی تھی اور اس بات کو اب دو سال ہونے کو آئے ہیں جبکہ اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ گزشتہ گیارہ اننگز میں وہ ایک ففٹی ہی بنا سکے ہیں اور جنوبی افریقہ کے دورے سے لے کر آسٹریلیا کیخلاف حالیہ سیریزتک ان کی قائدانہ اہلیت کا بھی بخوبی اندازہ ہو چکا ہے ۔

آل راؤنڈر کا ان دیکھا ’’تمغہ‘‘سینے پر سجائے شعیب ملک کی گزشتہ 28 میچوں میں صرف دو وکٹیں ہیں کیونکہ انہوں نے 17میچوں میں بالنگ ہی نہیں کی ہے اور حالیہ گیارہ میچوں میں محض ایک اوور ان کی بطور آل راؤنڈراہلیت پر منفی داغ ہے لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ ٹیم انتظامیہ بھی شکستوں کی قطار دراز ہوتے دیکھ کر یہ کہنے سے قاصر ہے کہ شعیب ملک خود بالنگ کرائیں۔

ان کے بالنگ کرنے سے یاسر شاہ کو ڈراپ کر کے ایک بیٹسمین کو ٹیم میں شامل کیا جا سکتا تھا جس سے پاکستانی بیٹنگ کو سہارا ملتا لیکن نہ جانے کس آس اور اُمید پر یاسر شاہ کو ون ڈے میچوں میں مسلسل کھلایا جا رہا ہے اور شعیب ملک صرف اوسط درجے کی بیٹنگ کو ہی اپنی اہلیت بنائے ہوئے ہیں ۔

دیگر اہم اسٹوریاں پڑھیں


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

پاکستان میں نیوزی لینڈکا کا میاب کرکٹ ماڈل اپنانے پر غور

پاکستان کرکٹ بورڈ مستقبل کیلئے نیوزی لینڈکا کامیاب ترین کرکٹ ماڈل آزمانے پر سنجیدگی سے …

error: Content is protected !!