ہوم / ٹاپ اسٹوریاں / نوبال تنازعے پرپابندی لگی تو بخوشی قبول کروں گا: کارلوس بریتھویٹ

نوبال تنازعے پرپابندی لگی تو بخوشی قبول کروں گا: کارلوس بریتھویٹ


بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیزکے درمیان ڈھاکہ میں کھیلے گئے سیریزکے تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں بنگلہ دیشی اننگز کے دوران کھڑے ہونے والے نوبال کے تنازعے نے عالمی توجہ حاصل کی جبکہ ویسٹ انڈین کپتان کارلوس بریتھویٹ نے احتجاجاً میچ کھیلنے سے انکارکردیا اور میچ آٹھ منٹ تک رُکارہا۔

ایساہی واقعہ 2006ء کے پاکستان اور انگلینڈکے درمیان کھیلے گئے اوول ٹیسٹ میں پیش آیاتھا جب امپائر ڈیرل ہیئر کے بال ٹمپرنگ کے جھوٹے الزام(جوبعد میں آئی سی سی میں ثابت ہوا)کے بعد پاکستانی کپتان انضمام الحق نے میچ کھیلنے سے انکارکردیاتھا اورجب وہ وقفے کے بعد کھیلنے کیلئے آئے تو معتصب امپائرنے میچ انگلینڈکو فورفیٹ کردیاتھا۔

بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیزکے درمیان حالیہ میچ کی دوسری اننگز کے چوتھے اوور میں میزبان ملک کے امپائر تنویراحمد نے کیربیئن بولر اُشانے تھامس کی گیندکو نوبال قرار دیاجوکہ درحقیقت قانونی بال تھی۔اس پر ویسٹ انڈین ٹیم بنگلہ دیشی ٹاپ اسکورلٹن داس کے آئوٹ ہونے کا ریویو لینا چاہتی تھی لیکن امپائرزنہ مانے۔

بعدازاں اسی اوورکی پانچویں گیندبھی امپائر تنویر نے نوبال قراردیدی جوکہ قانونی بال تھی۔اس کے نتیجے پر ملنے والی دونوں فری ہٹ بالز پربنگلہ دیشی بلے بازوں نے چھکے جڑے۔واضح رہے کہ اس میچ میں بنگلہ دیش کو ناکامی کا سامناکرنا پڑاتھا۔

بعدازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ویسٹ انڈین کپتان کارلوس بریتھویٹ نے کہاکہ اگر اس تنازعے کے نتیجے میں پابندی کا سامناکرنا پڑا تو وہ بخوشی کریں گے۔پابندیاں لگتی اور ختم ہوتی رہتی ہیں لیکن ہمیں اصول پر کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔

یہ متعلقہ اہم اسٹوریاں بھی پڑھیں

بنگلہ دیش – ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیموں پر جرمانے عائد

بنگلہ دیشی امپائرزکی طرفداری کے باوجودویسٹ انڈیز فاتح


Facebook Comments

error: Content is protected !!