ہوم / اعدادی حقائق / زیادہ اور کم ہیٹ ٹرکس کن کن ممالک کی جانب سے ہوئی ہیں؟

زیادہ اور کم ہیٹ ٹرکس کن کن ممالک کی جانب سے ہوئی ہیں؟


لگاتار تین گیندوں پر تین وکٹیں گراکر ’ہیٹ ٹرک‘ مکمل کرنا ایک بڑا کارنامہ ہے خصوصاً ٹیسٹ کرکٹ میں اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے جہاں بیٹسمین اپنی وکٹ بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اس رپورٹ میں ٹیسٹ کرکٹ میں ہونے والی ہیٹ ٹرکس پر خصوصی رپورٹ پیش کی جارہی ہے جس میں آپ جان سکیں گی کہ کن ممالک کی جانب سے کتنی کتنی ہیٹ ٹرکس ہوچکی ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں اب تک مجموعی طورپر 42 ہیٹ ٹرکس ہوچکی ہیں جن میں ایسا آخری واقعہ 2017ء میں اوول کے مقام پر پیش آیاتھاجب انگلینڈ کے معین علی نے لگا تار تین گیندوں پر ڈین ایلجر، کگیسو ربادااور مورنے مورکل کو پویلین واپس بھیج دیاتھا۔ان 42میں سے سب سے زیادہ چودہ ہیٹ ٹرکس انگلینڈ کی جانب سے ہوئی ہیں جبکہ آسٹریلوی بولرز گیارہ بار یہ کارنامہ سرانجام دے چکے ہیں۔

کن ممالک کی جانب سے زیادہ ٹیسٹ ہیٹ ٹرکس ہوئی ہیں؟
زیادہ ہیٹ ٹرکس میں انگلینڈ سب سے آگے ہے جس کے تیرہ مختلف بولرز چودہ بار یہ کارنامہ سرانجام دے چکے ہیں۔دوسری جانب، فل ممبر ممالک میں گزشتہ سال ہی شامل ہونے والی دوٹیموں افغانستان اور آئرلینڈکی جانب سے کوئی بولراب تک یہ کارنامہ سرانجام نہیں دے سکا جبکہ زمبابوے اور جنوبی افریقہ کی جانب سے اب تک صرف ایک ایک ٹیسٹ ہیٹ ٹرک ہوئی ہے۔

انگلینڈ – (14ہیٹ ٹرکس)
انگلینڈکرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ تاریخ میں سب سے زیادہ ہیٹ ٹرکس کرنے کا اعزاز حاصل ہے جس کے تیرہ بولرز نے چودہ بار لگاتار تین گیندوں پر وکٹیں گرانے کا اعزاز حاصل کیا ہے ۔جن میں اسٹورٹ براڈ واحد انگلش بولر ہیں جنہیں ایک سے زائد(2) بار ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔1882ء سے 1988ء تک ٹیسٹ تاریخ میں ہونے والی چاروں ہیٹ ٹرکس انگلینڈکی جانب سے ہوئی تھیں جن کے ولیم بیٹس،جوہنے بریگس،جارج لوہمن،جوہن تھامس ہرنے ، نے یہ کارنامہ سرانجام دیاتھا۔

انگلینڈکی جانب سے پانچویں ہیٹ ٹرک 1929-30ء میں مورس ایلوم نے کی تھی جو ٹیسٹ ڈیبیو میں ہیٹ ٹرک کرنے والے دُنیاکے پہلے بولر بنے تھے۔اُ ن کے بعداب تک مزید آٹھ انگلش بولرزکی جانب سے نو ہیٹ ٹرکس ہوچکی ہیں جن میں آخری ہیٹ ٹرک معین علی نے 2017ء میں اوول کے مقام پرجنوبی افریقہ کیخلاف کی تھی جو اب تک اس فارمیٹ میں دُنیا کی کسی بولر کی آخری ہیٹ ٹرک بھی ہے۔

آسٹریلیا(11ہیٹ ٹرکس)
ٹیسٹ تاریخ میں پہلی ہیٹ ٹرک آسٹریلیاکے فرڈ سپوفورتھ نے 1878-79ء کے سیزن میں ملبورن کے مقام پر روایتی حریف انگلینڈ کے خلاف کی تھی۔ فرڈ سپوفورڈکے اس کارنامے کے بعد ٹیسٹ تاریخ میں ہونے والی اگلی چاروں ہیٹ ٹرکس انگلش بولرز نے کی تھیں تاہم اس کے بعد اگلی چاروں ہیٹ ٹرکس آسٹریلیا کی جانب سے ہوئیں جو دو بولرزہائو ٹرمپل اور جمی میتھیوز نے تھیں۔

ان میں1912ء میں کی جانے والی جمی میتھیوز کی ہیٹ ٹرکس کی مختلف نوعیت کی تھیں جنہوں نے مانچسٹر کے مقام پر میزبان انگلینڈ کی دونوں اننگز میں یہ کارنامہ سرانجام دیکر ایک ہی ٹیسٹ میں دو ہیٹ ٹرک کرنے والے دُنیاکے پہلے اور واحد بولر ہونے کا اعزاز حاصل کیاتھا ۔ اس کے بعد سے اب کوئی بھی بولر ایک ٹیسٹ میچ میں دو ہیٹ ٹرکس نہیں کرسکاہے۔

جمی میتھیوز کے بعد اگلے 42سال تک کوئی آسٹریلوی بولر ہیٹ ٹرک کا کارنامہ سرانجام نہیں دے سکا تھا تاہم بعدازاں 1957/58ء میں لینڈسے کلئن نے کیپ ٹائون کے مقام پر یہ جمود توڑتے ہوئے میزبان جنوبی افریقہ کے تین بلے باز لگاتار تین بالز پر ٹھکانے لگائے۔کینگروزکی جانب سے اگلی ہیٹ ٹرکس 30 سال بعد 1988/89ء میں پرتھ کے مقام پر ہوئی جب مروّ ہیوز نے ویسٹ انڈیزکے تین بلے بازوں کو یکے بعد دیگرے پویلین واپس بھیجا۔

جس کے چھ سال بعد راولپنڈی کے مقام پر ڈیمین فلیمنگ نے پاکستان کے سلیم ملک، انضمام الحق اور عامرملک کو لگاتار تین گیندوں پر میدان بدرکرکے ہیٹ ٹرک کرنے والے چھٹے کینگروبولر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔جس کے بعد شین وارن،گلن مک گرا اور پیٹرسڈل یہ کارنامہ انجام دینے والے آسٹریلوی بولرز کی فہرست میں اپنا نام درج کراسکے ہیں۔ آسٹریلیاکی جانب سے آخری ہیٹ ٹرک پیٹرسڈل نے 2010/11ء میں درج کرائی تھی۔ یوں اب تک آسٹریلیاکی جانب سے مجموعی طورپر گیارہ ہیٹ ٹرکس ہوئی ہیںجو 9 مختلف بولرز کی جانب سے سرانجام دی گئی ہیں۔
پاکستان – (4ہیٹ ٹرکس)
ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے اب تک صرف چار ہیٹ ٹرکس ہوسکی ہیں جو چاروں ہی سری لنکا کے خلاف ہوئی ہیں، جن میں سے دو اکیلے وسیم اکرم نے کی ہیں۔ جو 1998-99ء میں یہ کارنامہ سرانجام دینے والے پہلے پاکستانی بولر بنے تھے جنہو ں نے ایک ہی سیزن کے دوران سری لنکا کے خلاف لاہور اور ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں ڈھاکہ کے مقام پر یہ کارنامہ سرانجام دیاتھا جن کے بعد عبدالرزاق نے 2000ء میں گالے کے مقام پر جبکہ محمد سمیع نے 2000/02ء میں لاہور کے مقام پر یہ کارنامہ سرانجام دیاتھا۔گزشتہ سترہ برسوں کے دوران کوئی پاکستانی بولر ٹیسٹ فارمیٹ میں ہیٹ ٹرک نہیں کرسکاہے۔
ویسٹ انڈیز – (4ہیٹ ٹرکس)
1958ء سے قبل ٹیسٹ کرکٹ میں ہونے والی تمام ہیٹ ٹرکس انگلینڈیا آسٹریلیاکے بولر نے کی تھیںجبکہ ویسٹ انڈیزکے ویسلے ہال کسی تیسرے ملک کے پہلے کرکٹر تھے جنہوں نے ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز حاصل کیا،انہوں نے یہ اعزاز 1958/59ء میں لاہور کے مقام پر پاکستان کے مشتاق محمد،فضل محمود اور نسیم الغنی کو لگاتارتین گیندوں پر میدان بدرکرکے پایا تھا۔ویسلے ہال کے بعد اب تک مزید صرف تین کیربیئن بولرزہی ہیٹ ٹرک کرسکے ہیں جن کی جانب سے ایسا آخری کارنامہ جیرمین لاسن نے 2002/03 میں برج ٹائون کے مقام پر آسٹریلیاکے خلاف سرانجام دیاتھا۔
نیوزی لینڈ – (2ہیٹ ٹرکس)
نیوزی لینڈکی جانب سے پہلی ہیٹ ٹرک پیٹر پیتھرک نے کی تھی جنہوں نے 1976/77ء میں لاہور کے مقام پر پاکستان کے جاویدمیانداد،وسیم راجہ اور انتخاب عالم کو لگاتار گیندوں پر میدان بدرکیاتھا۔ اس کے بعد کیویز کی جانب سے دوسری ہیٹ ٹرک جیمز فرینکلن نے کی جس نے 2004/05ء میں بنگلہ دیش کیخلاف ڈھاکہ کے مقام پر یہ اعزاز حاصل کیاتھا۔اس کے بعد سے کوئی کیوی بولر ٹیسٹ فارمیٹ میں ہیٹ ٹرک نہیں کرسکا۔
سری لنکا – (2ہیٹ ٹرکس)
وکٹوں کے اعتبار سے تاریخ کے کامیاب ترین بولر مرلی دھرن کی خدمات پانے والی سری لنکن ٹیم کی جانب سے اب تک صرف دو ہی ہیٹ ٹرکس ہوسکی ہیں جن میں پہلا کارنامہ فاسٹ بولر نوان زوئیسا نے 1999-00ء میں زمبابوے کیخلاف ہرارے کے مقام پر سرانجام تھا۔جس کے بعداُن کی جانب سے اگلی ٹیسٹ ہیٹ ٹرک لگ بھگ سترہ سال بعد آف اسپنر رنگنا ہیراتھ نے کی جس نے 2016ء میں گالے کے مقام پر آسٹریلیا کے تین بلے بازوں کو لگاتار تین گیندوں پر میدان بدرکرکے اس چھوٹی سری لنکن فہرست میں اپنا نام درج کرایاتھا۔
بھارت – (2ہیٹ ٹرکس)
ٹیسٹ فارمیٹ میں بھارت کی جانب سے بھی اب تک صرف دو ہی ہیٹ ٹرک ہوسکی ہے جن میں سے پہلی ہیٹ ٹرک ہربھجن سنگھ نے 2001/02ء میں کولکتہ کے مقام پر آسٹریلیاکے رکی پونٹنگ،ایڈم گلکرسٹ اور شین وارن کو لگاتار تین گیندوں پر کی تھی جس کے بعد یہ اعزاز پانے والے دوسرے اور اب تک کے آخری بھارتی بولر عرفان پٹھان تھے جس نے 2006ء میں پاکستان کے خلاف کراچی کے مقام پر سلمان بٹ،یونس خان اور محمدیوسف کو لگاتار تین گیندوں پر میدان بدرکیاتھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ میچ کا پہلا اوورتھا تاہم عرفان پٹھان کا یہ کارنامہ بھی بھارت کو شکست سے نہیں بچاسکاتھا۔
بنگلہ دیش – (2ہیٹ ٹرکس)
بنگلہ دیش کی جانب سے پہلی ہیٹ ٹرک الوک کپالی نے کی تھی جس نے 2003ء کے دورۂ پاکستان کے دوران پشاور ٹیسٹ میں ٹیل اینڈربیٹسمینوں شبیر احمد،دانش کنیریا اور عمرگل کو آئوٹ کرکے یہ اعزاز پایا تھاجس کے بعد بنگالیوں کی جانب سے دوسری اور آخری ہیٹ ٹرک سوہاگ غازی نے 2013/14ء میں نیوزی لینڈکے خلاف چٹاکانگ کے ہوم گرائونڈپر کی تھی۔
جنوبی افریقہ – (1ہیٹ ٹرک)
آپ کو یہ جان کر انتہائی حیرت ہوگی کہ ایلن ڈونلڈ،شان پولاک،مکھایا این تینی، فینی ڈی ویلیئرز، ڈیل اسٹین، کگیسو

دیگر اہم اسٹوریاں پڑھیں


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

ورلڈکپ سے قبل پاکستان ٹیم کی بڑی خامی دُورکریں گے: ہیڈکوچ

پاکستان کرکٹ ٹیم کی یو اے ای میں آسٹریلیا ٹیم کیخلاف پانچ صفر سے ناکامی …

error: Content is protected !!