ہوم / ٹاپ اسٹوریاں / تمام پاکستانی بولرز ٹاپ 25سے باہر،کس کی ترقی،کس کی تنزلی ہوئی؟

تمام پاکستانی بولرز ٹاپ 25سے باہر،کس کی ترقی،کس کی تنزلی ہوئی؟


پاکستان اور انگلینڈکے مابین پانچ میچز کی باہمی ون ڈے سیریزکے علاوہ آئرلینڈمیں ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کی شراکت سے کھیلی گئی ون ڈے ٹرائنگولر سیریزکے اختتام پر ٹیموں اور پلیئرزکی نئی رینکنگ جاری کردی ہے۔

انگلینڈکیخلاف صفر،چار کی شکست کے سبب پانچ پوائنٹس گنوانے کے باوجود پاکستان کی آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں چھٹی پوزیشن برقرار ہے تاہم اب اُس کا خود سے نچلے درجے کی بنگلہ دیشی ٹیم سے فاصلہ صرف چار پوائنٹس کا باقی رہ گیاہے جس کا واضح مطلب ہے کہ گرین شرٹس کی چھٹی پوزیشن بھی اب زیادہ محفوظ نہیں ہے تاہم پاکستان کے پاس موقع ہے کہ ورلڈکپ میں اچھی کارکردگی دکھاکر یہ فرق دوبارہ بڑھا لے۔

اس وقت آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں انگلینڈ بدستور پہلے درجے پر براجمان ہے جس کے بعد بھارت، جنوبی افریقہ ،نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا بالترتیب دوسر ے سے پانچویں درجے پر موجود ہیں ۔ ٹاپ 5سے باہرپاکستان چھٹے، بنگلہ دیش ساتویں، ویسٹ انڈیز آٹھویں، سری لنکانویں جبکہ افغانستان دسویں درجے پر موجود ہے۔

بیٹسمینوں کی اپ ڈیٹڈ ون ڈے رینکنگ پر نگاہ ڈالیں تو اس میں سب سے حیران کن چیز پاک-انگلینڈ ون ڈے سیریزکے مشترکہ ٹاپ اسکورر بابراعظم کی ایک درجہ تنزلی ہے جس کی وجہ ویسٹ انڈیزکے شائی ہوپ کی آٹھویں سے چوتھے درجے پر ترقی ہے جس کے سبب بابراعظم اور جوئے روٹ کو ایک ایک درجہ آگے بڑھنے کا موقع نہ مل سکا جو سیریز سے قبل مشترکہ طورپر چھٹے درجے پر موجود تھے۔

بابراعظم اگرچہ سیریزمیں 277رنزبناکر بھی اپنی رینکنگ بہتر نہیں بناسکے مگر اُن کی ریٹنگ میں چھ پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے جس کے سبب اُن کے ریٹنگ پوائنٹس 782 سے بڑھ کر 788ہوگئے ہیں۔

پاک انگلینڈ سیریزکے تیسرے ٹاپ اسکوررامام الحق نے 234رنزبنانے کا صلہ آٹھ درجے ترقی کی صورت میں پایا ہے جو اب 22ویں سے چودھویں درجے پر آگئے ہیں۔اس کے ساتھ اُن کی ریٹنگ میں بھی 41پوائنٹس کا اضافہ ہوگیاہے۔

138رنزکی کیریئر کی دوسری بہترین اننگز سمیت پاک انگلینڈ سیریزمیں 40.00کی اوسط اورلگ بھگ 115رنز فی سوبالز کے اسٹرائک ریٹ سے 200 رنز بنانے کا صلہ فخرزماں کو دو درجے ترقی کی صورت میں ملا ہے جس کی بدولت وہ ٹاپ ٹین میں واپس آگئے ہیںجو اپنی کیریئربیسٹ رینکنگ سے اب صرف ایک درجہ پیچھے ہیں۔

پاک انگلینڈ ون ڈے سیریزکے چھٹے ٹاپ اسکورربننے کا صلہ فخرزماں کو 22پوائنٹس حاصل کرنے کی صورت میں بھی ملاہے۔وہ اب بابراعظم کے بعد آئی سی سی ون ڈے بیٹنگ رینکنگ کے ٹاپ ٹین درجوں میں جگہ پانے والے دوسرے پاکستانی بلے باز بن گئے ہیں۔

سیریزکے آخری میچ میں97رنزکی عمدہ اننگز سمیت مجموعی طورپر186رنزبناکر بیٹنگ چارٹ میں ساتویں پوزیشن پانے والے پاکستانی کپتان سرفرازاحمد اپنی رینکنگ میں 9درجے بہتری لانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس کے سبب وہ دوبارہ دُنیا کے پچاس بہترین بلے بازوں میں شامل ہوتے ہوئے عالمی نمبر 47 بلے باز بن گئے ہیں ۔

دیگر پاکستانی بلے بازوں میں دو،دو میچز کھیلنے والے محمد حفیظ اور شعیب ملک کی پانچ پانچ درجے تنزلی ہوئی ہے جو اب بالترتیب 41ویں اور 52ویں درجے پر چلے گئے ہیں۔ حارث سہیل نے دو درجے ترقی پاتے ہوئے 56ویں پوزیشن پر قبضہ جمالیاہے جبکہ چار اننگز میں67 رنزبنانے والے آل رائونڈر عمادوسیم اپنی 67ویں بیٹنگ رینکنگ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔

سیریز کا صرف ایک میچ کھیلنے والے اوپننگ بلے باز عابد علی کی 23درجے تنزلی ہوئی ہے جس کی بدولت اب تک ٹاپ200بلے بازوں کی فہرست سے خارج ہوکر 206ویں درجے پر چلے گئے ہیں۔ آئی سی سی نے حیران کن طورپر اب تک پاکستانی مڈل آرڈر بلے باز آصف علی کو ون ڈے بیٹنگ رینکنگ چارٹ میں شامل ہی نہیں کیا جو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے بہت بڑا بلنڈر ہے۔

 

بولرزکی جانب سے دیکھیں تو پاک-انگلینڈ ون ڈے سیریزکھیلنے والے پاکستانی پلیئرزمیں عمادوسیم، فہیم اشرف اور شاہین آفریدی اپنی رینکنگ بہتر بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت پاکستان کا کوئی بھی بولر آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں ٹاپ25 درجوں پر موجود نہیں۔انگلینڈکے خلاف حالیہ سیریز کے چار میچز میں صرف تین وکٹیں حاصل کرپانے والے حسن علی پاکستان کے ہائی رینک بولر ہیں جو اس وقت 26ویں درجے پر ہیں جن کی حالیہ پاک- انگلینڈ سیریزکے دوران 9درجے تنزلی ہوئی ہے ۔

پاک انگلینڈ ون ڈے سیریزکے دوسرے مشترکہ ٹاپ بولر عمادوسیم کو تین میچز میں چھ وکٹیں لینے کا صلہ نودرجے ترقی کی صورت میں ملاہے جس کی بدولت وہ ٹاپ 30 بولرز میں شامل ہوتے ہوئے 28ویں درجے پر آگئے ہیں۔

سیریزمیں حصہ نہ لینے والے شاداب خان تین درجے تنزلی کے بعد 29ویں درجے پر چلے گئے ہیں، اس طرح محمد عامر بھی چار درجے پھسل کر 40ویں پوزیشن پر چلے گئے ہیں ۔

انگلینڈ کے خلاف سیریزکے دومیچز میں صرف دو وکٹیں حاصل کرنے والے فاسٹ بولر جنید خان پانچ درجے تنزلی کے سبب ٹاپ50بولرزکی فہرست سے خارج ہوتے ہوئے 52ویں درجے پر چلے گئے ہیں ۔

82رنز کے عوض چار وکٹوں کی کارکردگی سمیت تین بولنگ اننگزمیں پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے شاہین آفریدی 29درجوں کی بڑی چھلانگ لگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس کی بدولت وہ دُنیاکے 57ویں بہترین بولر بن گئے ہیں ۔

ٹاپ60سے باہر پاکستانی بولرزمیں تین میچز میں صرف ایک وکٹ لینے والے فہیم اشرف نے سات درجے ترقی پاتے ہوئے 65ویں پوزیشن پر قبضہ جمالیا ہے جبکہ محمد حفیظ اور یاسر شاہ تین، تین درجے تنزلی کے بعد بالترتیب 63ویں اور 66ویں درجے پر چلے گئے ہیں۔

رینکنگ اپ ڈیٹس پر یہ خصوصی ویڈیو دیکھیں


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

ورلڈکپ سے باہر ہونے کے بعد بھارتی ٹیم کو ایک اور بڑا دھچکا

آئی سی سی ورلڈکپ 2019ء کے پہلے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست …

error: Content is protected !!