ہوم / اسپیشل رپورٹس / دورۂ انگلینڈ: 5غلطیاں جو بھارت کو لے ڈوبیں

دورۂ انگلینڈ: 5غلطیاں جو بھارت کو لے ڈوبیں


بھارتی کرکٹ ٹیم کو ایک بار پھر دیار غیر میں منہ کی کھانا پڑی، انگلینڈ میں کھیلے گئے پانچ ٹیسٹ میچز میں سے 4 میں شکست کا طوق گلے میں سجانے کے باوجود بھی کپتان ویرات کوہلی ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں ہیں، وہ اس بات پر نازاں ہیں کہ ان کی ٹیم اس سیریز میں کافی مسابقتی دکھائی دی ، یہی نہیں بلکہ انہوں نے تو یہاں تک دعویٰ کردیا کہ موجودہ بھارتی ٹیسٹ ٹیم ان کے ملک کی گزشتہ 15 برسوں میں طویل فارمیٹ کھیلنے والی بہترین سائیڈ ہے۔

ان سب باتوں کے ساتھ ویرات کوہلی نے یہ بھی بہرحال کہہ دیا کہ بھارت کو سب سے پہلے اپنی غلطیوں کی تلافی کرنا ہوگی، یہ الگ بات کہ انہوں نے ان غلطیوں کی کوئی تفصیل پیش نہیں کی مگر ہم یہاں اپنے سلسلے ’ٹاپ فائیو‘ میں ان 5 بھیانک غلطیوں کا جائزہ آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں ہیں جو دورۂ انگلینڈمیں بھارت کی شکست کی وجہ بنیں۔

تیاری کی کمی

سب سے پہلا سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت واقعی اس سیریز کے لئے تیار تھا؟ اس طویل ٹور کیلئے اس کی تیاریاں تسلی بخش تھیں؟ کیا پلیئرز کو اس طویل ٹور کے دوران اور درمیان میں صلاحیتوں کو نکھارنے، کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے اور فارم دوبارہ حاصل کرنے کا مناسب موقع ملا؟ تو قدردانوں ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے ’نہیں‘… کیونکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

بھارت نے اس اہم ترین سیریز سے قبل صرف ایک ٹور میچ کھیلا جوکہ اصل میں تو 4 روزہ تھا مگر ٹیم کے تھنک ٹینک چلمسفورڈ پہنچنے کے بعد اس میں سے ایک دن کی کٹوتی کردی۔ اس بارے میں مائیکل ہولڈنگ سے بات کرتے ہوئے ویرات کوہلی نے توجیہہ پیش کی کہ کسی کمزور ٹیم کے خلاف وارم اپ میچز کھیلنے کا کوئی بھی فائدہ نہیں، یہ دراصل وقت کا ضیاع ہے۔

سیریز کے آغاز سے قبل مناسب پریکٹس نہ کرنے کے سبب ٹیسٹ سیریز میں صاف دکھائی دیا کہ بھارتی بیٹسمینوں کو بدستور گھومتی ہوئی ڈیوک بالز کو کھیلنے میں بدستور پریشانی کا سامنا تھا، وہ اس بات تک کو نہیں سمجھ پائے کہ کس لینتھ پر آنے والی گیند پر اٹیک کرنا چاہئے اور کس کو چھوڑ دینا چاہئے۔ اگرچہ اس سیریز کے دوران بھارتی فاسٹ بولرز مستقل مزاجی سے پرفارم کرتے رہے اور کافی متاثر کن بھی ثابت ہوئے مگر انہیں بھی انگلینڈ کے لوئر آرڈز کو جلد ٹھکانے لگانے میں مشکل کا سامنا رہا خاص طور پر جب گیند پرانی ہونے لگتی تو صورتحال ان کے کنٹرول سے باہر ہوجاتی۔

کیا چتیشور پجارا کو نظر انداز کرنا درست تھا؟

بھارت نے ایجبسٹن میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میںٹاپ آرڈر پر مرلی وجے، شیکھر دھون اور لوکیش راہول کا انتخاب کیا، اگرچہ وجے اور دھون نے 50 رنز کی شراکت کی مگر کوئی بھی زیادہ دیر تک کریز پر نہیں ٹک پایا، پہلی اننگز میں لوکیش راہول نے صرف 4 رنز بنائے، دوسری باری میں جب بھارت کو کامیابی کے لئے صرف 194 رنز کا ہدف ملا تو بھارت نے 46 رنز تک پہنچنے کے دوران ہی 3 وکٹیں گنوادیں، اس دوران مرلی وجے نے صرف 6 رنز بنائے، شیکھر دھون اور لوکیش راہول 13، 13 رنز ہی بناپائے اور بھارت یہ میچ 31 رنز سے ہار گیا۔

پہلی صبح کو ٹیم میٹنگ کے بعد چتیشور پجارا نے پلیئنگ الیون میں شمولیت پر لوکیش راہول کو مبارک تو دی مگر لازمی طور پر انہیں اپنے ڈراپ کئے جانے پر حیرت بھی ہوئی ہوگی، یہ بات درست ہے کہ سیریز سے قبل پجارا کا کائونٹی کرکٹ میں یارکشائر کی جانب سے وقت زیادہ اچھا نہیں گزرا مگر یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ جس وقت وہ کائونٹی کرکٹ کھیل رہے تھے تب اپریل اور مئی کے مہینے تھے جب موسم کافی سرد تھا اور پچز سیمنگ تھیں، اس کے علاوہ کچھ امپائرنگ فیصلے بھی ان کے خلاف گئے۔

اس کے مقابلے میں پہلا ٹیسٹ موسم گرما کے عروج پر کھیلا گیا، جب موسم گرم اور وکٹیں کافی سخت تھیں، اگر پجارا کو اچھے آغاز کا موقع مل جاتا تو وہ بولرز کو دبائو میں لاسکتے تھے، ویسے بھی ویرات کوہلی کو ایک ایسے بیٹسمین کی ضرورت تھی جوکہ پہلے ٹیسٹ کے آخری روز کی صبح ایک اینڈ سنبھالے رکھتاجب بھارت کو 60 کے قریب رنز کی ضرورت تھی، پجارا ایسے بیٹسمین ثابت ہوسکتے تھے۔

لارڈز کی سیمنگ اور گیلی وکٹ پردو اسپنرز کیوں کھلائے؟

انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے اختتام پر ویرات کوہلی کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے یہ بھی فرما رہے ہیں کہ بھارتی کپتان بدقسمت ثابت ہوئے کیونکہ وہ اس سیریز کے دوران تمام پانچ کے پانچ ٹاس ہار گئے، کوئی ان اللہ کے بندوں سے یہ پوچھے کہ اگر سکہ ان کے حق میں گرتا تو کیا وہ درست فیصلہ کرتے؟

ہمارے سامنے لارڈز کی مثال موجود ہے جب وہ ٹاس ہارے اور انگلش کپتان نے انہیں پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تو ویرات کوہلی کا فرمانا تھا کہ اگر میں ٹاس جیتتا تو بھی پہلے بیٹنگ کا ہی فیصلہ کرتا، کیا واقعی؟ سیم اور سوئنگ بولنگ کے لئے موزوں کنڈیشنز میں بھی وہ پہلے بیٹنگ کرنا چاہ رہے تھے؟ جب کہ حقیقت تو یہ سامنے آئی کہ صرف 35.2 اوورز میں پوری بھارتی ٹیم 107 رنز پر آئوٹ ہوگئی اور اس کی تمام کی تمام 10 وکٹیں انگلش فاسٹ بولرز نے ہی سمیٹیں۔

کلدیپ کو پہلی بار ڈیوک گیند کے ساتھ بولنگ میں بہت زیادہ دشواری کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر گیلی کنڈیشنز میں ان سے گیند پر گرپ ہی نہیں ہورہی تھی جب انہیں میدان میں اُتارا جارہا تھا تو وہ بھارتی ٹیم کا ہتھیار تھے مگر آخر میں بیوقوف دکھائی دے رہے تھے اور اس کا ذمہ دار وہ تھنک ٹینک تھا جوکہ سوچ رہا تھا کہ لارڈز کی گیلی کنڈیشنز میں دو اسپنرز ان کے لئے کارآمد ثابت ہوں گے۔

بھارت نے سائوتھمپٹن میں دو اسپنرز کیوں نہیں کھلائے؟

بھارتی ٹیم نے لارڈز میں ایک ساتھ دو اسپنرز کھلاکر بہت بڑی بیوقوفی کی تو اس سے بھیانک غلطی اس نے سائوتھمپٹن میں دو اسپنرز نہ کھلا کر کی۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں رہی کہ کسی وینیو کی پچ کا رویہ کیسا رہے گا کیونکہ آپ بہت دور جانے کے بجائے وہاں پر کھیلے جانے والے کائونٹی میچز کے نتائج دیکھ کر کافی اندازہ لگاسکتے ہیں۔

رواں سیزن میں ایجزبائول پر کھیلے گئے کائونٹی میچز چیخ چیخ کر اس بات کا اعلان کررہے تھے کہ یہاں پر اسپن کا کردار اہم ہوسکتا ہے جبکہ یہاں پر کھیلے جانے والے ٹیسٹ کے دوران گرمی بھی بھرپور پڑرہی تھی۔

دلچسپ ترین بات تو یہ ہے کہ خود کپتان ویرات کوہلی نے بھی کہا تھا کہ یہاں اسپن اہم کردار ادا کرے گی، اس کے ساتھ انھوں نے 2014 کے ٹور کی یاد بھی دلائی تھی جب اس وینیو پر معین علی نے انھیں خوب پریشان کیا تھا، یہ سب کچھ جانتے، بوجھتے اور سمجھتے ہوئے بھی کوہلی نے رویندرا جڈیجا پر ہردیک پانڈیا کو ترجیح دی۔

پہلی اننگز میں پانڈیا بہت ہی مہنگے بولر ثابت ہوئے، ان کے ایک اوور میں اوسطاً 6 سے زائد رنز پڑے جبکہ باقی بولنگ اٹیک جس میں ایشون بھی شامل تھا، اس نے ایک اوور میں تین سے بھی کم رنز دیئے۔ دوسری باری میںجب وکٹ فاسٹ دکھائی دینے لگی اور رنگ بدل رہی تھی تب کوہلی نے پانڈیا کی ایک اینڈ کو سنبھالنے کی صلاحیت پر اعتماد نہیں کیا اور ان سے صرف 9 اوورز کرائے، بیٹ کے ساتھ بھی پانڈیا ناکام دکھائی دیئے اور آسانی سے انگلش جال میں الجھ گئے۔

بھارت کے لئے اس لئے بھی صورتحال زیادہ دگرگوں ہوئی کیونکہ ایشوین اپنا جادو نہیں جگا پارہے تھے، تیسرے دن کی دوپہر کو وہ کنڈیشنز سے فائدہ اُٹھانے میں ناکام رہے جبکہ ان کے برعکس میزبان اسپنر معین علی نے کنڈیشنز کا بھرپور فائدہ اٹھایا، ایک بار پھر بھارت پچ اور کنڈیشنز کا درست اندازہ لگانے میں بری طرح ناکام رہا۔

اگر اس میچ سے قبل انہوں نے تھوڑا ذہن لڑایا ہوتا اور ہردیک پانڈیا کی جگہ رویندرا جڈیجا کو میدان میں اتارتے تو پھر ایشون پر سے کام کا بوجھ بھی کم ہوتا اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ تھی کہ وہ پچ پر پڑنے والے کریک سے فائدہ بھی اٹھاتے، آخری صبح جس طرح وکٹ پر پائوں کے نشان پڑے ہوئے تھے ان کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جڈیجا انگلش ٹیم کو کس قدر نقصان پہنچاسکتے تھے۔

اَن فٹ ایشوین کو کھلانا مہنگا پڑا

اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ایشوین کی فارم نے بھارت کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ سائوتھمپٹن ٹیسٹ کے لئے 100 فیصد فٹ تھے؟ بات دراصل یہ تھی کہ ناٹنگھم میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ کے آخر میں وہ اپنی گروئن پر چوٹ کھا بیٹھے تھے، 6 دن بعد یعنی اگلے میچ کے موقع پر ویرات کوہلی نے اعلان کیا کہ ایشوین فٹ ہیں۔

میچ کے بعد ہیڈ کوچ روی شاستری کا بھی یہی کہنا تھا کہ ایشون فٹ تھے مگر میچ کے دوران سب نے صاف دیکھا کہ ایشون کو بولنگ ایکشن کے دوران پورے جسم کو بروئے کار لانے میں مشکل کا سامنا تھا، ٹور کے آغام پر وہ اپنی بائی فرنٹ لیگ کو عمدگی سے لینڈ کررہے تھے مگر بعد میں اس میں فرق آنے لگا۔

ویرات کوہلی چاہتے تھے کہ اہم ترین تیسری دوپہر کو ایشون بولنگ کریں اور کھردری سائیڈ سے فائدہ اٹھائے، اس تکلیف کے ساتھ ایشون نے 22 اوورز کا اسپیل کرایا اور ایک وکٹ لی جوکہ بین اسٹوکس کی تھی مگر اس وقت تک میچ مکمل طور پر انگلینڈ کے کنٹرول میں جاچکا تھا، اس مقابلے میں بھارت کو کسی دوسرے اسپیشلسٹ اسپنر تو کیا کسی پارٹ ٹائمر سلو بولر کی خدمات بھی میسر نہیں تھیں، اس لئے ویرات کوہلی کے پاس بھی ایشون سے بولنگ کرانے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ انھوں نے نئی گیند لینے میں بھی تھوڑی تاخیر کی کیونکہ وکٹ پر واضح طور پر شکستگی کے آثار نمایاں ہونے لگے تھے جوکہ اسپنرز کے لئے سازگار تھے۔

ایشوین نے اوول میں کھیلے گئے آخری ٹیسٹ سے قبل ٹریننگ سیشن میں کوئی بولنگ نہیں کی اور پھر اس مقابلے میں انہیں ڈراپ بھی کردیا گیا، ٹاس کے موقع پر ویرات کوہلی نے اعلان کیا کہ سائوتھمپٹن میں ایشوین کی انجری شدت اختیار کرگئی ہے۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ ایشوین کی ایسی حالت کا ذمہ دار کون ہے؟… خود ایشوین؟ فزیو؟ یا پھر ٹیم مینجمنٹ؟


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

روہیت اور کو ہلی کےاختلافات سامنے آنے لگے

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتا ن ویرات کوہلی اور نائب کپتان روہیت شرما کے درمیا …

error: Content is protected !!