ہوم / تجزیئے و جائزے / اندھی تنقیداورڈھٹائی کے ’ڈگری ہولڈرز‘ کو جواب

اندھی تنقیداورڈھٹائی کے ’ڈگری ہولڈرز‘ کو جواب


پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بلے باز امام الحق کی جب سے سلیکشن ہوئی ہے ،چند میڈیا گروپس کے نام نہاد ’ماہرین‘ اس نوجوان بلے باز کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑگئے ہیں جس کی وجہ نہایت سادہ سی ہے کہ اُس کے ’’چچا‘‘ ان کی سفارش پر کسی کھلاڑی کو ٹیم میں شامل ہی نہیں کرتے۔جس کے ردعمل میں چیف سلیکٹرانضمام الحق سے بدلہ اُن کے بھتیجے کے خلاف مہم چلاکرلیا جارہاہے۔

شروع میں تو عام شائقین سمیت مجھے بھی کسی حد تک لگاتھا کہ شاید امام الحق کی سلیکشن کی وجہ اُس کی صلاحیت سے زیادہ اُس کے چچا انضمام الحق کی پوسٹ ہے مگر جب اُسے ون ڈے ڈیبیو میں بیٹنگ کرتے ہوئے دیکھا تو کچھ’ صحافیوں‘ کی پیداکردہ تصویر کی حقیقت کھلنے لگی۔

اس بیٹسمین نے ون ڈے ڈیبیو میں سنچری اسکورکرنے والے پاکستان کے محض دوسرے کرکٹرہونے کا اعزاز حاصل کیا تو ان چند ’’ماہرین‘‘نے اپنی اَنا کو تسکین پہنچانے کیلئے امام الحق کی ون ڈے ڈیبیو کی سنچری کو ’فلوک ‘ کا نام دیا۔چلیں… یہاں بھی ان ناقدین کی تنقید کو کسی حد تک قابل قبول کہاجاسکتاتھا کیونکہ کئی کرکٹرزنے حادثاتی طور پر کوئی بڑی اننگز کھیلی مگر بعدازاں وہ کارکردگی میں تسلسل برقرار نہ رکھ پائے۔

اگلے سال دورۂ زمبابوے میں اُس نے لگاتاردو سنچریوں سمیت سیریزمیں تین سنچریاں داغ کر ایک باہمی کرکٹ سیریزمیں زیادہ سنچریوں کا عالمی ریکارڈبرابر کرتے ہوئے خود کو ظہیر عباس، ڈیسمنڈہینز،کرس گیل،کیون پیٹرسن ، کوئنٹن ڈی کوک،محمد حفیظ،ابراہام ڈی ویلیئرز، بابراعظم اور ویرات کوہلی جیسے بیٹسمینوں کی صف میں لاکھڑاکیا مگر یہاں بھی ’’بھتیجے‘‘ کا ٹیگ لگا کر امام الحق کی اس ریکارڈسازکارکردگی کو زمبابوے جیسی کمزور بولنگ لائن کی چادر میں چھپانے کی کوشش کی گئی۔جس نے اسی سیریزکے دوران فخرزماں کے 304رنزکی ریکارڈ اوپننگ شراکت کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کرڈالا تھا جو پاکستان کی ون ڈے تاریخ میں کسی بھی وکٹ پر قائم ہونے والی اولین ٹرپل سنچری شراکت بھی ہے۔

اس دوران امام الحق ون ڈے انٹرنیشنل کیریئر کے پہلے دس سے کم ون ڈے میچز میں چار سنچریاں داغنے والا دُنیاکا پہلا بیٹسمین بن گیا مگر یہ ورلڈریکارڈکارکردگی بھی ناقدین کا ’کینہ‘‘ صاف نہ کرسکی۔بہرحال! زمبابوے کی کمزور بولنگ لائن کا ان ناقدین کا جواز کو درست تصورکرتے ہوئے آگے بڑھیں تو اُس نے ایشیاء کپ کے پانچ میچز میںتین ففٹیوں سمیت 225رنزبناکر خودکو ٹورنامنٹ کا ٹاپ اسکوررپاکستانی بلے باز ثابت کیالیکن اس کارکردگی کے باوجود ناقدین کی توپوں کا رُخ بدستور امام الحق کی جانب ہی رہاجوکہ خاصا حیران کن تھا۔

اب پاکستان ٹیم جنوبی افریقہ کے ٹورپر موجود ہے جہاں اوپننگ بیٹسمین نے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں 86رنزکی عمدہ اننگز کھیلنے کے بعد تیسرے ون ڈے میچ میں101رنزکی شاندار اننگز کھیلی تو وہ اپنے جذبات پر قابونہ رکھ سکا جس نے لبوں پر اُنگلی کر ان ناقدین کو اب خاموش ہوجانے کا اشارہ کیا جو کسی حد تک صحیح بھی تھالیکن اس بیٹسمین کے اس ’ردعمل‘ پر کچھ ’’ٹوئٹری صحافی‘‘ آپے سے باہر ہوگئے جنہوں نے یہاں بھی ’’پرچی…پرچی‘‘ لکھتے ہوئے خود کو پرلے درجے کا اَنا پرست اورحقائق کو نہ ماننے والوں کی اُس کی ’’کیٹیگری‘‘ کا حصہ ثابت کیا جس نام میں یہاں نہیں لکھنا چاہوں گا۔

یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ…
  • ایک بیٹسمین جو ون ڈے ڈیبیو میں سنچری اسکورکرنے والا پاکستان کا محض دوسراجبکہ مجموعی کرکٹ تاریخ کا محض چودھواں بلے باز ہونے کا اعزاز رکھتا ہے۔
  •  جو ایک باہمی ون ڈے سیریزمیں زیادہ سنچریوں کے عالمی ریکارڈکا شراکت دار ہے۔
  •  جو پاکستانی تاریخ کی واحد ٹرپل سنچری شراکت کا حصہ ہے۔
  • جو ون ڈے تاریخ کی سب سے بڑی اوپننگ شراکت میں اپنا نام لکھواچکاہے۔
  • جو ایشیاء کے سب سے بڑے کرکٹ میلے (ایشیاء کپ 2018ء ) میں خودکو ٹاپ اسکوررپاکستانی بیٹسمین ثابت کرچکا ہے۔
  •  جو ون ڈے تاریخ میں کیریئر کی پہلی دس سے کم اننگزمیں چار سنچریاں اسکورکرنے کے عالمی ریکارڈکا مالک ہے۔
  • < جو ون ڈے تاریخ میں تیز ترین ایک ہزار رنزبنانے والا دُنیا کا دوسرا بیٹسمین بن چکاہے۔
  • جوجنوبی افریقہ میں کسی ایک باہمی سیریزمیں 80+رنزکی دو اننگز کھیلنے والاپہلا پاکستانی بیٹسمین ہونے کا اعزاز اپنے کھاتے میں لکھواچکاہے۔
  • جو20سے کم اننگزمیں پانچ ون ڈے سنچریاں داغنے والا واحد پاکستانی بلے باز ہے۔
  • جو اپنے ون ڈے ڈیبیو کے بعد سے تمام ملکی بلے بازوں میں اوسط کے اعتبار سے سب سے آگے نکل چکاہے جبکہ محض گیارہ رن کی کمی سے دوسراپاکستانی ٹاپ اسکوررہے ۔

اتنے سارے ریکارڈز، اعزازات کے باوجود اگر کوئی ’’میں نہ مانوں‘‘ کی رٹ پر اَڑا رہتا ہے تو پھر اُس کی ذہنی صحت اور بُغض میں ’’افاقے‘‘ کی دُعا ہی کی جاسکتی ہے۔

یہاں مسئلہ ایسے ’’ماہرین‘‘کی اندھی تنقید کا نہیں ہے کہ وہ اس حد تک آگے کیوں چلے گئے ہیں کہ منہ کی کھانے کے باوجود رائے بدلنے کیلئے اُن کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسی رائے میڈیاپر آنے سے عام شائقین گمراہ ہوتے ہیں گوکہ اب سوشل میڈیاکے دورمیں کسی بھی محض اپنے فرسودہ خیالات سے قائل کرنا خاصا مشکل ہے لیکن اس کے باوجود شائقین کی ایک بڑی تعداد آج بھی انہی ’ماہرین‘ کی طرح لکیرکی فقیر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کسی ایک میچ میں ناکامی پر امام الحق کے خلاف سوشل میڈیاپر ’پرچی‘ اور ’بھتیجے‘ کے القابات پوسٹ ہوتے دیکھے جارہے ہوتے ہیں جو کہ ایک باصلاحیت بیٹسمین کے ساتھ سراسر زیادتی ہے اور افسوس کی بات ہے کہ اس زیادتی کا ’موجب‘ وہ لوگ بن رہے ہیں جنہیں اس کھیل اور کھلاڑیوں کے فروغ کیلئے کردار اداکرنا تھا۔

دیگر اہم اسٹوریاں پڑھیں


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

سرفرازپرپابندی،کیا پاکستان کرکٹ کا منظرنامہ بدلنے جارہاہے

آخرکار وہی ہوا جس کا ڈر تھا کہ پاکستانی کپتان سرفراز احمد پر نسلی امتیاز …

error: Content is protected !!