ہوم / اعدادوشمار / ورلڈکپ 2019ء کا فائنل کون جیتے گا؟ اعدادوشمار اور حقائق کیا کہتے ہیں؟

ورلڈکپ 2019ء کا فائنل کون جیتے گا؟ اعدادوشمار اور حقائق کیا کہتے ہیں؟


دُنیا کی دس ٹاپ ٹیموں پر مشتمل آئی سی سی ورلڈکپ 2019ء میں میزبان انگلینڈ اور نیوزی لینڈکی ٹیمیں خودکو سب سے بہتر ثابت کرتے ہوئے 14 جولائی کو لارڈز میں ہونے والے فیصلہ کن معرکے کیلئے کوالیفائی کرچکی ہیں۔

انگلش ٹیم 27سال بعد ورلڈکپ فائنل میں پہنچی ہے جس نے آخری بار 1992ء میں پاکستان کے مدمقابل فائنل کھیلا تھا جبکہ نیوزی لینڈکی ٹیم مسلسل دوسرے ورلڈکپ میں فائنل تک رسائی پانے میں کامیاب ہوئی ہے۔اس سے قبل دونوں ٹیمیں فائنل کھیلنے کا تو مزا چکھ چکی ہیں مگر کوئی ٹیم عالمی چیمپئن نہیں بن سکی۔اس لئے اس بارکوئی ایک ٹیم نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے پہلی بارورلڈچیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کرلے گی۔

کرکٹ حلقوں، ماہرین میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ یہ فیصلہ کن معرکہ سر کرکے عالمی چیمپئن بننے کیلئے کونسی ٹیم فیورٹ ہے؟ اس حوالے سے مفروضوں پر مبنی تجزئیے ہورہے ہیں۔ فیورٹ ٹیم کا تعین کرنے کیلئے مدمقابل ٹیموں کے سابقہ خصوصاً حالیہ میچز کے نتائج انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔انہی میچز کے نتائج اور دیگر اعدادوشمار کی روشنی میں ہم نے یہ خصوصی رپورٹ آپ کیلئے تیار کی ہے۔جس کی مدد سے آپ باآسانی جان سکیں گے کہ ورلڈکپ 2019ء کی ٹرافی اُٹھانے کیلئے کونسی ٹیم فیورٹ ہے؟

ورلڈکپ 2019ء کے فیصلہ کن معرکے سے قبل دونوں ٹیموں کے سابقہ ریکارڈ پر نگاہ ڈالیں تو دونوں ہی ٹیموں کا ورلڈکپ فائنلز میں ریکارڈ مایوس کن ہے۔ انگلش ٹیم اس سے قبل تین بار فائنل میں پہنچ چکی ہے اور ہر بار ہی اُسے شکست کا سامناکرنا پڑا ہے۔1979ء کے میگاایونٹ میں اُسے ویسٹ انڈیز، 1987ء میں آسٹریلیا جبکہ ورلڈکپ1992ء میں پاکستان ٹیم اُسے شکست دے چکی ہے۔

دوسری جانب، نیوزی لینڈکی ٹیم اس سے قبل صرف ایک بار فائنلسٹ بنی ہے جب گزشتہ ورلڈکپ 2015ء میں اُسے میزبان آسٹریلیا کے شکست کا سامناکرناپڑاتھا۔

ہوم ایڈوانٹیج اور میزبان ٹیم کے فاتح بننے کی روایت

انگلش ٹیم کو اس فیصلہ کن معرکے میں ہوم کنڈیشنز کا ایڈوانٹیج حاصل ہوگاجبکہ گزشتہ دو ایونٹس میں میزبان ٹیموں کا فاتح بننا بھی انگلش کھلاڑیوں اور سپورٹرز کے حوصلے بڑھا رہاہے۔ 2011ء سے قبل کبھی بھی میزبان ٹیم ورلڈکپ نہیں جیت سکی تھی لیکن 2011ء میں بھارت اور 2015ء کے ورلڈکپ کی میزبان آسٹریلیا نے ٹائٹل کامیابی حاصل کرکے نئی روایت قائم کی ہے۔ اس لئے امکان ظاہر کیا جارہاہے کہ ورلڈکپ 2019ء کا میزبان انگلینڈ بھی اس بار یہ روایت برقرار رکھتے ہوئے پہلی بار عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کرلے گا۔

انگلینڈکا لاجواب ہوم ٹریک ریکارڈ

انگلش کرکٹ ٹیم نے حالیہ چار برسوں کے دوران اپنے میدانوں پر ناقابل یقین کارکردگی کا مظاہرہ کیاہے جو 2016ء سے کھیلی گئی 9 میں سے آٹھ ہوم ون ڈے سیریز یا ٹورنامنٹس جیتنے میں کامیاب رہی ہے جبکہ اس دوران اُسے واحد ناکامی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017ء کی صورت میں ہوئی ہے جب و ہ پاکستان کے خلاف سیمی فائنل میں ہار گئی تھی۔

نیوزی لینڈکا خراب اَوے ریکارڈ

آئی سی سی ورلڈکپ 2019ء کے فائنل میں نیوزی لینڈکو انگلینڈ سے یکسر مختلف صورتحال کا سامناہے جسے میزبان ٹیم کے کنڈیشنز اور کرائوڈایڈوانٹیج کا بھی سامنا کرنا ہے۔ انگلینڈ حالیہ چار برسوںمیں اپنے ملک میں جتنی مضبوط ٹیم ثابت ہوئی ہے، نیوزی لینڈ اپنے ملک سے باہر اُتنی ہی کمزور سائیڈ ہے جو 2016ء سے اَوے یا نیوٹرل مقامات پر کھیلی گئی چھ ون ڈے سیریز یا ٹورنامنٹس میں صرف ایک ٹرافی اُٹھاسکی ہے جس نے2017ء میں بنگلہ دیش اور آئرلینڈ جیسی ٹیموں کے ساتھ کھیلی گئی ٹرائنگولر سیریز جیتی تھی۔

حالیہ چار برسوں میں انگلینڈ کا شاندار ہوم ریکارڈ اور نیوزی لینڈ کا مایوس کن اَوے ریکارڈ فائنل کی فیورٹ سائیڈکا تعین کرنے کیلئے میزبان انگلش سائیڈ کے پلڑے کا وزن بڑھا رہاہے۔

ہیڈٹو ہیڈ ریکارڈ

انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان سابقہ مجموعی ون ڈے ریکارڈ پر نگاہ ڈالیں تو نیوزی لینڈ کو قدرے برتری حاصل ہے جنہوں نے نسبتاً دو زائد فتوحات حاصل کرکے اپنا پلڑا بھاری رکھاہے۔ دونوں ٹیموں کے مابین کھیلے گئے 90باہمی ون ڈے انٹرنیشنلز میں نیوزی لینڈنے 43جبکہ انگلینڈ نے 41میچز میں کامیابی حاصل کی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ باہمی میچز میں نتائج کے اعتبار سے اب بھی نیوزی لینڈ کا پلڑا بھاری ہے لیکن حالیہ چار برسوں کے دوران یکسر مختلف صورتحال دیکھنے کو ملی ہے۔2016ء سے انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے مابین کھیلے گئے سات میچز میں کیویز کو پانچ شکستوں کے بدلے صرف دو کامیابیاں مل سکی ہیں۔ ان میچز میں دوگنی سے زائد کامیابیاں سمیٹنے والی انگلش ٹیم کو ورلڈکپ 2019ء کے فائنل میں ہوم کنڈیشنز کا بھی ایڈوانٹیج حاصل ہے جو 17جون 2015ء سے نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے ملک میں کھیلے گئے تمام چاروں ون ڈے میچز جیت چکی ہے۔

انگلینڈکی بیٹنگ لائن خصوصاً ٹاپ آرڈر بہترین فارم میں ہے جن کے اوپنرزکے بیٹ رنز اُگل رہے ہیں جبکہ نیوزی لینڈ کے اوپنرز حالیہ ٹورنامنٹ میں اب تک یکسر فلاپ رہے ہیں۔

آئی سی سی ورلڈکپ 2019ء کے فائنل کے تناظر میں یہ اعدادوشمار اور حقائق انگلینڈکے حق میں جارہے ہیں۔ا س لئے اگر نیوزی لینڈکی ٹیم اس میچ میں فتح حاصل کرلیتی ہے تو یہ یقینا خلاف ِ توقع نتیجہ ہوگا!!

دیگر اہم اسٹوریاں پڑھیں


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

جوفراآرچرکا برق رفتار بائونسر- الیکس کیری کے ہوش اُڑ گئے

انگلینڈکے برق رفتار فاسٹ بولر جوفرا آرچر نے آسٹریلیاکے خلاف کھیلے گئے دوسرے سیمی فائنل …

error: Content is protected !!