ہوم / ٹاپ فائیو / پاکستان کرکٹ کے پانچ بہترین سال!!

پاکستان کرکٹ کے پانچ بہترین سال!!


دیگر ٹیموں کی طرح پاکستان کرکٹ ٹیم نے بھی اپنی تاریخ میں کئی عروج اور کئی زوال دیکھے ہیں۔ پاکستان ٹیم کیلئے کئی سال خاصے مایوس کن رہے ہیں تو کئی لاجواب سال بھی گزرے ہیں۔اس ہفتے ایسے ہی یادگار پانچ سالوں کو ’’ٹاپ فائیو‘ میں شامل کیا جارہاہے۔ کوشش ہے کہ آنے والے ہفتوں میں تینوں فارمیٹس کے میچز میں پاکستان کے پانچ بہترین اور بدترین سالوں کو شائع کیا جائے تاکہ آپ بھی پاکستان کرکٹ کے ان سالوں کے متعلق معلومات حاصل کرسکیں۔

واضح رہے کہ فتح وشکست کے تناسب کے اعتبار سے پاکستان کے وہ پانچ بہترین سال منتخب کئے گئے ہیں جن کے دوران پاکستان ٹیم نے کم ازکم پانچ فتوحات سمیٹی ہوں۔اس سلسلے میں آگے بڑھنے سے قبل قارئین کو بتاتاچلوں کہ 1987، 1955، 1965، 1976اور1956پانچ ایسے سال تھے جن میں پاکستان ٹیم کوئی میچ ہارے بغیرچند فتوحات حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی جن میں 1987واحد کیلنڈرایئرتھا جس میں اُس کی فتوحات کی تعداد دو سے زائد تھی مگر یہ کامیابیاں تیرہ میچز کھیل کر ملی تھیں۔ لہٰذا اس کیلنڈرایئر کو پاکستان کے بہترین سالوں میں شمار نہیں کیاجارہا۔

.1 2011ء (فتح وشکست6.00)

2010ء میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کا بھیانک وقت دیکھنے کے بعد کسی کو اُمید نہ تھی کہ نئے ٹیسٹ کپتان مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان ٹیم اس قدر کامیابیاں سمیٹے گی کہ اگلا سال پاکستان ٹیسٹ تاریخ کا کامیاب ترین کیلنڈرایئربن جائے گا۔ان بارہ ماہ کے دوران پاکستان ٹیم کو قدرے کمزور حریفوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملا تھا جن میں بنگلہ دیش کے خلاف دو اور زمبابوے کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ کی سیریز شامل تھی مگر اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے یواے ای میں سری لنکا کے خلاف سیریز کھیلنے کے علاوہ نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز میں جاکر بھی سیریز کھیلیں جہاں ایشیائی ٹیموں کو ہمیشہ ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ 2011ء میں پاکستان ٹیم نے پانچ ٹیسٹ سیریز کے دوران دس ٹیسٹ میچز کھیلے جن میں سے چھ کامیابیوں کے بدلے اُسے واحد شکست دورۂ ویسٹ انڈیز میں ہوئی جبکہ نیوزی لینڈمیں ایک صفر سے کامیابی کے علاوہ سری لنکا کے خلاف تین میچوں کی یواے ای سیریزمیںبھی اسی مارجن سے کامیابی حاصل کی۔

.2 1994ء (فتح وشکست5.00)

سلیم ملک کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے 1994 کے بارہ ماہ کے دوران شاندار کامیابیاں سمیٹی تھیں جس نے فروری میں دورۂ نیوزی لینڈ میں تین میں سے دو ٹیسٹ جیت کر دو،ایک سے کامیابی حاصل کی۔ اس ٹور کے بعد گرین کیپس نے اگست میں دورۂ سری لنکا میں سیریزکے دونوں ٹیسٹ جیتے جبکہ اکتوبر میں آسٹریلیا کی میزبانی کرتے ہوئے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دو ٹیسٹ ڈراکرانے سمیت سیریزمیں ایک ،صفر کی کامیابی سمیٹی۔1994کے دوران پاکستان ٹیم نے سلیم ملک کی قیادت میں کھیلے گئے آٹھ میں سے پانچ ٹیسٹ میچز جیتے تھے جس کے بدلے اُسے صرف ایک میچ میں شکست کاسامناکرنا پڑا۔

.3 2003ء (فتح وشکست5.00)

یہ کپتانوں کے تجربات کا سال تھا جس کے دوران چار مختلف کپتانوں کو پاکستان ٹیم کی قیادت کرنے کا اعزاز حاصل ہواجن میں راشدلطیف اور انضمام الحق کو تین تین جبکہ محمدیوسف اور وقاریونس کو ایک ایک ٹیسٹ میں قیاد ت ملی۔

اس کیلنڈرایئرمیں بھی پاکستان نے آٹھ میں سے پانچ ٹیسٹ میچز جیتے تھے جسے واحد شکست دورۂ جنوبی افریقہ کے آخری ٹیسٹ میں ہوئی تھی۔ اس سیریز کے پہلے دو ٹیسٹ گزشتہ سال (دسمبر کے دوران ) کھیلے گئے تھے ۔پاکستان کو اس کیلنڈرایئر کی واحد شکست وقاریونس کی قیادت میں ہوئی تھی۔پاکستان ٹیم نے 2003ء کے اس کامیاب ٹیسٹ کیلنڈرایئر کے دوران دورۂ جنوبی افریقہ کے علاوہ پاکستان ٹیم نے اکتوبر میں جنوبی افریقہ کی میزبانی کی اور دو ٹیسٹ میچوں کی سیریزمیں ایک صفر سے کامیابی حاصل کی ،اس سے قبل اگست میں راشد لطیف کی قیادت میں بنگلہ دیش کو ہرایا تھا۔

پاکستان ٹیم نے اسی سال دسمبر میں نیوزی لینڈکا بھی ٹور کیاجہاں دو میں سے ایک ٹیسٹ ڈرا کرانے کے علاوہ ایک میں کامیابی سمیٹ کر سیریز اپنے نام کی۔2003ء کے اس کیلنڈرایئرمیں تناسب کے اعتبار سے دُنیا کی کامیاب ترین ٹیم ثابت ہوئی تھی جس نے ایک شکست کے بدلے پانچ کامیابیاں سمیٹ کر 5.00کا تناسب حاصل کیا تھا جس کے بعد دوسری بہترین ٹیم آسٹریلیا تھی جو 2.66کا تناسب حاصل کرسکی تھی جو پاکستان کے مقابلے میں لگ بھگ آدھا تھا۔پاکستان اور آسٹریلیا کے علاوہ اس سال کے دوران صرف انگلینڈ اور جنوبی افریقہ ہی دیگر دو ٹیمیں تھی جو شکستوں سے دوگنی فتوحات سمیٹنے میں کامیاب رہی تھیں۔

.4 2015ء (فتح وشکست5.00)

ورلڈکپ کے اس سال کے دوران مصباح الحق پاکستان کے چوتھے کپتان بنے جسے کسی ایک سال کے دوران شکستوں کے مقابلے میں پانچ گنازائد فتوحات ملیں۔اس کیلنڈرایئرمیں پاکستان ٹیم بھارت کے ہمراہ بہترین تناسب رکھتی تھی جبکہ ان کے روایتی حریفوں کے علاوہ صرف آسٹریلیا تیسری ٹیم تھی جسے شکستوں سے دوگنی فتوحات مل سکی تھیں۔

2015ء کے بارہ ماہ کے دوران پاکستان ٹیم نے اپریل میں بنگلہ دیش کا دورہ کیا جہاں پاکستان کو تاریخی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جو اس سے قبل وہاں دورے کے تمام ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچز ہارچکی تھی۔ اس دورے کی ٹیسٹ سیریزمیں پاکستان نے ایک ٹیسٹ ڈراکرنے سمیت ایک کامیابی حاصل کرکے ٹیسٹ سیریز بالاآخر ایک صفر سے اپنے نام کی تھی جس کے بعد جون میں دورۂ سری لنکا میں تین ٹیسٹ میچز کی سیریز دو،ایک سے اپنے نام کی اور پھر اکتوبر میں انگلینڈکو یواے ای میں دو،صفر سے پچھاڑا۔

.5 1996ء (فتح وشکست4.00)

اس کیلنڈرایئرمیں وسیم اکرم اور سعیدانورکی قیادت میں پاکستان ٹیم نے شاندار کارکردگی کامظاہرہ کیاتھا ۔سعید انور کی قیادت میں پاکستان نے نومبر میں نیوز ی لینڈکے خلاف دو میچز کھیلے تھے جن میں سے ایک میں فتح اور ایک میں شکست کھائی مگر وسیم اکرم کی قیادت میں کھیلے گئے پانچ میں سے تین ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کو فتح ملی اور بقیہ دو ٹیسٹ بے نتیجہ ثابت ہوئے۔ورلڈکپ کے سبب پاکستان ٹیم نے 1996ء کے پہلے چھ ما ہ میں کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلاتھا البتہ جولائی میں وہ دورۂ انگلینڈپر گئی جہاں وسیم اکرم کی قیادت میں وہاں تین ٹیسٹ میچوں کی سیریزمیں دو، صفر سے کامیابی حاصل کی۔یہ پاکستان کی انگلش سرزمین پر جیتی گئی اب تک کی آخری ٹیسٹ سیریز بھی ہے۔

اس کیلنڈرایئر کے دوران پاکستانی اوپنر سعید انور نے سال میں چوکوں کی سنچری مکمل کرنے والے دُنیاکے واحدبلے باز ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا جبکہ سات میچز میں 701رنزبناکر وہ نسبتاً ایک زائد ٹیسٹ کھیلنے والے الیک اسٹیورٹ کے بعد دوسرے کامیاب ترین بلے باز تھے۔

یہ رپورٹ قدرے مختصر کرکے شائع کی گئی ہے جو پاکستان میں کھیلوں کے معروف میگزین ’اسپورٹس لنک‘ میں شائع کی گئی تھی۔


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

وہاب ریاض کی طوفانی بولنگ نے خیبرپختونخواکوفتح دلادی

پاکستان کپ کے دوسرے روز وہاب ریاض کی عمدہ بولنگ نے خیبرپختونخوا کو دفاعی چیمپئن …

error: Content is protected !!