ہوم / ٹاپ اسٹوریاں / ون ڈے کرکٹ کیلنڈرایئر2018ء – کس ٹیم نے کیا کھویا یا پایا؟

ون ڈے کرکٹ کیلنڈرایئر2018ء – کس ٹیم نے کیا کھویا یا پایا؟


2018ء ون ڈے کرکٹ کے اعتبار سے خاصا حیران کن رہا ،خصوصاً جنوبی افریقہ اور آسٹریلیاکے حوالے سے کچھ ناقابل یقین اعدادوشمار سامنے آئے ۔ کینگروز سال کی ناکام ترین ٹیم ثابت ہوئے جو بارہ ماہ میں کھیلی جانیوالی تین ون ڈے سیریزمیں سے ایک بھی نہ جیت پائے جبکہ نچلے درجے کی بنگلہ دیشی اور افغانستان کی ٹیموں میں نمایاں بہتری آئی۔

سال کے اختتام پر آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں ٹاپ ٹین میں موجود تمام ٹیموں کی 2017ء اور 2018ء میں کارکردگی کا موازنہ زیرنظر رپورٹ میں پیش کیا جارہاہے۔جسے پڑھ کر آپ جان سکیں گے کہ کس ٹیم نے بارہ ماہ میں کیا کھویا، کیا پایا؟

پاکستان

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتنے کی وجہ سے2017ء پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یادرکھا جائے گا جس کے دوران گرین شرٹس نے ٹاپ لیول کی ٹیموں کے خلاف لگاتار 9ون ڈے میچز جیتے تھے جس میں سری لنکا کے خلاف یواے ای سیریزمیں کلین سوئپ بھی شامل تھا۔

2017ء میں پاکستان نے کھیلی گئی چارسیریز/ٹورنامنٹس میں سے تین اپنے نام کئے تھے جس میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے علاوہ سری لنکا اور ویسٹ انڈیزکے خلاف سیریز وکٹریاں شامل تھیں۔2018 میں صورتحال یکسر مختلف نظر آئی جہاں پاکستان کو ایک سیریزجیتنے کے بدلے دومیں ناکامی ہوئی اور ایک سیریز ڈراکی۔

حالیہ بارہ ماہ کے دوران پاکستان ٹیم نے اٹھارہ میں سے صرف آٹھ میچز جیتے ۔ جس کے بدلے اُسے ایک زائد ناکامی کا سامناکرنا پڑا جبکہ گزشتہ صورتحال یکسر مختلف تھی۔ 2017ء کے کیلنڈرایئرمیں پاکستان دُنیاکی اُن ٹاپ4ٹیموں میں شامل تھی جنہوں نے شکستوں سے دوگنی فتوحات سمیٹی تھیں۔

2017ء کے دورۂ آسٹریلیامیں چار ون ڈے میچز ہارنے کے علاوہ پاکستان ٹیم پورے سال میں مزید صرف دو ہی میچز ہاری لیکن اس کے بدلے اُس نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں میزبان انگلینڈ اور فائنل میں بھارت کو ہرانے سمیت دوگنی (12) فتوحات حاصل کیں۔2017ء کے مقابلے میں حالیہ بارہ میں پاکستان کی فتوحات میں 22فیصدکمی آئی۔

انگلینڈ

سال کے دوران نمایاں کامیابیاں سمیٹنے والی انگلش ٹیم نے تین درجے ترقی پاکر ون ڈے کی نمبرون ٹیم بننے کا اعزاز حاصل کیاجس نے بارہ ماہ کے دوران چھ میں سے پانچ سیریز جیتیں اور اکلوتے میچ پر مشتمل صرف ایک سیریزمیں اُسے اسکاٹ لینڈکے ہاتھوں ناکامی کا سامناکرنا پڑا۔ اس کے برعکس 2017ء میں انگلینڈکو چیمپئنزٹرافی سمیت دو سیریزمیں شکست ہوئی تھی تاہم اُس نے گزشتہ سال بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھ میں سے چار سیریز جیتی تھیں۔

2017ء میں انگلینڈ فتح وشکست کے تناسب کے اعتبار سے دُنیاکی بہترین ٹیم تھی جس نے 3.75کے تناسب سے فتوحات سمیٹتے ہوئے بیس میں سے پندرہ ون ڈے میچز اپنے نام کئے تھے۔اس کے مقابلے میں حالیہ بارہ ماہ میں انگلینڈکی فتوحات میں پانچ فیصد کمی واقع ہوئی ۔

بھارت

حالیہ برس کے بارہ ماہ کے دوران بھارتی ٹیم کو دورۂ انگلینڈمیں ناکامی کا سامناکرنا پڑاتھا جو کیلنڈرایئرمیں اُس کی چارمیںسے واحد سیریز ناکامی تھی۔اس کے علاوہ اُس نے پورا سال شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس میں سب سے اہم کامیابی دورۂ جنوبی افریقہ میں حاصل کی جہاں وہ چھ میچز کی سیریزکے پانچ میچز جیتنے میں کامیاب رہی۔یہ تاریخ میں پہلا موقع تھاجب بھارت نے پروٹیزکو اُن کے دیس میں سیریزہرائی جس کی بدولت وہ محض پاکستان کے بعد یہ اعزاز پانے والی دوسری ایشیائی ٹیم بھی بن گئی۔

2018ء میں فتح وشکست کے تناسب کے اعتبا ر سے کامیاب ترین ٹیم ثابت ہونے والی بھارتی سائیڈ نے بیس میں سے چودہ میچز جیت کر 70 فیصد نتائج دئیے جو گزشتہ برس کے مقابلے میں دو فیصد کم تھے۔ 2017ء میں بھارت نے 29میں سے 21میچز جیت کر 72 فیصد نتائج دئیے تھے۔


جنوبی افریقہ

پروٹیز سائیڈکیلئے 2018ء کے ون ڈے کیلنڈرایئرکا آغاز انتہائی بھیانک اندازمیں ہوا تھاجسے اپنے میدانوں پر بھارت کے خلاف پہلی بار سیریز گنواناپڑی لیکن اس کے بعد اُس نے پیچھے مڑکرنہ دیکھا اور اگلی تینوں سیریز جیت کر کسی حد تک اپنے اعدادوشمار بہتر بنائے ۔

اس سے گزشتہ سال وہ پانچ میں سے تین سیریز جیتنے میں ضرور کامیاب ہوئی تھی مگر اس کے بدلے اُسے انگلینڈکے خلاف باہمی سیریزکے علاوہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بھی ناکامی کا سامناکرنا پڑاتھالیکن اس کے باوجود 2018ء میں اُس کے نتائج میں مزید سولہ فیصد کمی آئی ہے جو شکستوں سے محض ایک زائد فتح حاصل کرسکی جس کی وجہ اُس کی زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز تھی وگرنہ اُس کے اعدادوشمار خاصے بھیانک ہوتے۔


افغانستان

فل ممبر ملک کا اسٹیٹس پانے والی افغان ٹیم کی2018ء میں کارکردگی خاصی شاندار رہی جس نے زمبابوے میں ورلڈکپ کوالیفائر ایونٹ جیت کرنہ صرف ورلڈکپ2019ء کیلئے کوالیفائی کیا بلکہ زمبابوے کے خلاف کھیلی گئی یواے ای سیریز کے علاوہ آئرلینڈکو اُن کے ملک میں جاکر ہرایا۔

ایشیاء کپ واحد ایونٹ تھا جس میں وہ کامیابی حاصل نہ کرسکی۔حالیہ بارہ ماہ میں چارمیں سے تین سیریز/ٹورنامنٹس جیتنے والی افغان ٹیم نے سال میں 20میں سے 12ون ڈے انٹرنیشنل میچز جیت کر ساٹھ فیصد کامیابیاں سمیٹیں جو اُس کی گزشتہ سال سے سولہ فیصد زائد کامیابیاں تھیں۔

2017ء میں چار ون ڈے سیریزمیں سے دو جیت سکی تھی جسے آئرلینڈکے ہاتھوں ناکامی کے علاوہ ویسٹ انڈیزکے خلاف سیریز کی برابری پر اکتفا کرنا پڑاتھااور بارہ ماہ میں وہ سات ون ڈے میچز میں ناکامی کے بدلے صرف ایک زائد فتح سمیٹ سکی تھی۔

بنگلہ دیش

گزشتہ ورلڈکپ کے بعد محدود اوورزکے فارمیٹس میں مضبوط ٹیم بن کر اُبھرنے والی بنگلہ دیش الیون نے 2018ء میں لاجواب کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 65%میچز میں کامیابیاں حاصل کیں جو گزشتہ برس سے 37فیصدزائد کامیابیاں تھیں۔2017ء میں اپنے زیادہ ترمیچز دیارِ غیرمیں کھیلنے کے سبب اُسے چودہ میں سے صرف چارمیچز میں فتح مل کی تھی مگر حالیہ بارہ کے دوران اُس نے 20میں سے 13ون ڈے انٹرنیشنل میچز جیتے البتہ ان فتوحات کی بڑی وجہ قدرے کمزور ٹیموں کے خلاف زیادہ میچز بھی تھے۔

بنگلہ دیش نے 2018ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم اینڈاَوے کی دو سیریزکے علاوہ اپنے میدانوں پر گیارھویں درجے کی زمبابوین ٹیم کے خلاف سیریز کھیلی۔ان تینوں سیریزمیں اُسے کامیابی ملی جبکہ اپنے ہی ملک میں سری لنکا اور زمبابوے کی شمولیت سے کھیلی گئی ٹرائنگولرسیریزکے علاوہ ایشیاء کپ میں اُسے ناکامی کا سامناکرنا پڑامگر اس کے باوجوداُس کے نتائج کو خراب قرارنہیں دیاجاسکتا جس نے ایشیاء کپ میں مضبوط حریف پاکستان کو بھی شکست سے دوچارکیا تھا۔


نیوزی لینڈ

کیوی ٹیم نے 2018ء کے ون ڈے کیلنڈرایئرکا آغاز انتہائی شاندار اندازمیں کیاتھا جب اُس نے ہوم سیریزکے پانچوں میچز جیت کر پاکستان کو پہلی بار کلین سوئپ کی خفت سے دوچار کیاتھاتاہم اس کے بعد وہ کامیابیوں کے سلسلے کو برقرارنہ رکھ سکی جسے اگلی ہوم سیریزمیں انگلینڈکے ہاتھوں ناکامی کاسامناکرنا پڑا اور پھر پاکستان کیخلاف یواے ای سیریز 1-1 سے برابر کی۔ ان تین سیریزکے دوران کھیلے گئے تیرہ میں سے آٹھ میچز جیت کر 61فیصد نتائج حاصل کئے جو گزشتہ برس سے چھ فیصد بہتر تھے۔


ویسٹ انڈیز

تاریخ کے پہلے دونوں ورلڈکپ جیتنے والی ویسٹ انڈین ٹیم رواں صدی کے دوران خاصی مشکلات کا شکارہے حتیٰ کہ وہ گزشتہ چار برسوں میں ایک بھی باہمی ون ڈے سیریز نہیں جیت سکی ہے۔ 2018 ء بھی اُس کے مسائل کم نہ ہوئے جو زمبابوے میں کھیلے گئے آئی سی سی ورلڈکپ کوالیفائر کے فائنل میں افغانستان کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئی ،پھر بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز گنوائی۔

بھارت میں بھی اُسے شکست کا سامناکرنا پڑا اور سال کی آخری ون ڈے سیریزمیں بھی اُسے بنگلہ دیشی سرزمین پر میزبان سائیڈکے خلاف ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ وہ سال کے دوران اٹھارہ میں سے صرف آٹھ میچز جیت سکی جبکہ نو میچوں میں اُسے ناکامی کا منہ دیکھناپڑا مگر اس کے باوجود 2017 ء کے مقابلے میں یہ اُس کے31 فیصد بہتر نتائج تھے جو گزشتہ برس22میں سے صرف تین ہی میچز جیت پائی تھی اور اس کے بدلے اُسے سولہ مقابلوں میں ناکامی کا سامناکرنا پڑاتھا۔2017ء میں وہ فتح وشکست کے تناسب کے اعتبار سے دُنیا کی ناکام ترین ٹیم تھی۔

سری لنکا

1996ء ورلڈکپ کی چیمپئن اور 2007و2011ء کے عالمی کپ ٹورنامنٹس کی فائنلسٹ سری لنکن ٹیم گزشتہ چار برسوں سے بدترین حالات کا شکار ہے جو تلکارتنے دلشان،کمارسنگاکارا اور مہیلا جے وردنے کے متبادل ڈھونڈنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

2018ء میں بھی آئی لینڈرزکی کارکردگی کا معیار گراوٹ کا شکار ہے جس کی کامیابیوں میںگزشتہ سال کی نسبت اٹھارہ فیصد کمی دیکھی گئی۔سال کے دوران کھیلے گئے 29ون ڈے میچز میں وہ صرف پانچ ہی جیت سکی ہے جن میں بنگلہ دیش میں کھیلی گئی ٹرائنگولر سیریزکا فائنل میچ بھی شامل تھا جو سال میں اُس کی کسی سیریزیا ٹورنامنٹ کی واحد فتح تھی۔اس سیریزکے بعد اُسے جنوبی افریقہ اورانگلینڈکے خلاف ہوم سیریزکے علاوہ ایشیاء کپ میں ناکامی کا سامناکرنا پڑا ۔

ایشیائی میگاایونٹ کے ابتدائی رائونڈ میں دونوں میچز میں وہ بنگلہ دیش اور افغانستان کے خلاف شکستوں سے دوچار ہوکر پہلے ہی رائونڈ میں ایونٹ سے باہر ہوگئی۔2018ء کے مقابلے میں گزشتہ برس کے دوران آئی لینڈرز نے دوگنے بہترنتائج دیتے ہوئے 35فیصدمیچز جیتے تھے ۔


آسٹریلیا

جو شائقین کرکٹ آسٹریلیاکو 70sء کی دہائی سے فالوکررہے ہیں،اُن کیلئے کینگروز کی حالیہ ’حالت ِزار‘ سمجھنا نہایت ہی آسان ہوگا۔لگاتار سیریزاورمیچز سمیت لگاتار زیادہ ورلڈکپ جیتنے کا اعزاز رکھنے والی آسٹریلوی ٹیم آج اگر سال بھر میں اپنے ملک سے باہر ایک بھی میچ نہیں جیت پارہی توموجودہ عالمی چیمپئن اور پانچ بار ورلڈکپ جیتنے والی ٹیم کیلئے اس سے بدترین صورتحال کیا ہوسکتی ہے۔

گزشتہ سال بھی کینگروزکی کارکردگی اچھی نہ تھی جو پاکستان کے خلاف ہوم سیریز جیتنے کے علاوہ سال بھر میں مزید صرف ایک ون ڈے میچ ہی جیت پائے تھے لیکن 2018ء تو اُن کیلئے گزشتہ سال سے زیادہ بھیانک ثابت ہوا۔جس میں اُس کی کارکردگی کا گراف مزید اٹھارہ فیصد نیچے گرا۔جس کے دوران کھیلے گئے تیرہ میچز میں وہ صرف دو ہی ون ڈے جیت سکی جو دونوں ہی اپنے ملک میں کھیلتے ہوئے جیتے۔ان بارہ ماہ میں کینگروز ون ڈے میچز میں صرف پندرہ فیصد کامیابیاں سمیٹ سکے جو اُن کے کسی کیلنڈرایئرمیں فتوحات کا سب سے کم تناسب ہے۔


کرکٹ کیلنڈرائیر2018ء پر تمام رپورٹس، تجزیئے اور ٹاپ ٹیموں وپلیئرزکی تفصیل پڑھیں

Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

سال میں زیادہ چھکوں کا عالمی ریکارڈ ٹوٹ گیا

2018ء کے ٹی ٹوئنٹی کیلنڈرایئرمیں بلے بازوں نے 967 بار گیند کوبائونڈری لائن کی سیرکرائی …

error: Content is protected !!