ہوم / اعدادی حقائق / شان مسعود کی سلیکشن پرتنقید کی پس پردہ کہانی

شان مسعود کی سلیکشن پرتنقید کی پس پردہ کہانی


بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ہر چیز کو منفی انداز سے سوچنے کی عادت سے بن گئی ہے اور یہی چیز کچھ مفاد پرستوں کیلئے خاصی ’’کارآمد‘‘ ثابت ہورہی ہے جنہوں نے تنقید برائے تنقید کو ہی اپنی ’’مہارت‘‘ بنالیاہے اور اسی ’اہلیت‘ کی بنیاد پر وہ خاطر خواہ مفادات بھی حاصل کررہے ہیں۔

گزشتہ دنوں شان مسعود کو ایشیاء کپ کیلئے پاکستانی ون ڈے اسکواڈ میں جگہ ملی تو اس پر حسبِ توفیق سب نے اپنی اپنی ’مہارت‘ کا حصہ ڈالا لیکن بدقسمتی سے کسی نے بھی حقائق کو دیکھنے یا جاننے کی کوشش تک نہ کی اور چیف سلیکٹر انضمام الحق کے ’لے دے‘ شروع کردی۔ کچھ عرصہ قبل یہی ’’ماہرین‘‘ فوادعالم کو ٹیم میں اِن کرانے کیلئے لاٹھی لیکر امام الحق اور اُن کے چیف سلیکٹر چچاکے پیچھے پڑے ہوئے تھے لیکن امام الحق نے 9 ون ڈ ے انٹرنیشنل میں چار سنچریاں بنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کرکے سبکے منہ بند کئے تو اُنہیں بیچنے کیلئے شان مسعود کی سلیکشن اور محمد حفیظ کی عدم سلیکشن کا ’’منجن‘‘ مل گیا۔

اب یہاں تنقید کرنے والوں کے پاس دو جواز تھے۔ایک شان مسعود کی سلیکشن جو اب تک محض ٹیسٹ فارمیٹ میں ہی پاکستان کی نمائندگی کرچکاہے اور دوسرا محمد حفیظ کو ڈراپ کرنا… اگر ہم دونوں پہلوئوں کا بغور جائزہ لیں تو سلیکشن کمیٹی کے ان فیصلوںپر تنقید کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

2017/18ء کے گزشتہ ون ڈے ڈیپارٹمنٹل کرکٹ میں شان مسعود ٹورنامنٹ کا ٹاپ اسکوررتھا جس نے نو میں سے پانچ اننگزمیں ناٹ آئوٹ رہتے ہوئے 158.00کی شاندار اوسط سے 632 رنزبنائے تھے ۔ان نو میں سے سات اننگزکو اُس نے ففٹی پلس اسکور میں بدلاتھاجن میں145رنزکی اننگز سمیت تین سنچریاں بھی شامل تھیں جو ٹورنامنٹ میں کسی بھی بلے بازکی سب سے زیادہ سنچریاں تھیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ گزشتہ سیزن کے ون ڈے نیشنل کپ کا بھی شان مسعود ہی ٹاپ اسکورر تھا جس نے آٹھ میں سے چھ اننگزمیں دو سنچریوں اور آٹھ نصف سنچریوں سمیت 109.33 کی شاندار اوسط سے 656رنزبنائے تھے جو رنز، سنچریوں اور اوسط کے اعتبار سے سبھی بلے بازوں سے آگے تھا۔

گزشتہ سیزن کے دونوں بڑے ون ڈے ٹورنامنٹس کے ٹاپ اسکورر شان مسعود نے ون ڈے ڈیپارٹمنٹل کپ اور نیشنل ون ڈے کپ کے مجموعی سترہ میچز میں سے سات بار ناٹ آئوٹ رہتے ہوئے 119.70رنز فی اننگزکی لاجواب اوسط سے بارہ سو لگ بھگ رنزبنائے ہیں جس میں پانچ سنچریاں اور آٹھ نصف سنچریاں شامل ہیں۔

اگرملک کے دو بڑے ون ڈے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کے سترہ میں سے تیرہ میچز میں ففٹی پلس اسکورکرنے والے بلے باز کی ٹیم میں شمولیت پر اگر کوئی اُنگلی اُٹھا تاہے تو پھر میرے خیال میں اُسے فوری طورپر ماہر نفسیات سے رابطہ کرلینا چاہیے۔ کسی کھلاڑی کی اس قدر شاندار کارکردگی کسی بھی سلیکٹرکو اُسے موقع دینے کیلئے اُکساسکتی ہے اور ایسا ہی چیف سلیکٹر نے کیا۔

ایسے میں اگر انضمام الحق نے ملک کے ٹاپ اسکوررکو موقع دیدیا ہے تو اُسے میرٹ پر فیصلہ کرنے پر داد دینی چاہیے تھی لیکن یہاں اُلٹی گنگا بہہ رہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ فخرزماں اور امام الحق کے اوپننگ پوزیشن پر پوری طرح سیٹ ہوجانے کے بعد شان مسعود کو موقع ملنے کا امکان بھی کم ہے اور اگر محمد حفیظ کو سلیکٹ کربھی لیاجاتا اور دورۂ زمبابوے کی طرح اُس کی ون ڈے ٹیم میں جگہ نہ بن پاتی تو پھر سب ’’سینئرکوعزت دو‘‘ کا راگ الاپتے۔

یہ اعدادوشمار ثابت کرتے ہیں کہ شان مسعود کو ون ڈے اسکواڈ میں جگہ دینا قطعاً خلاف ِ میرٹ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بھی اگر کچھ لوگ اس فیصلے پرچیف سلیکٹرکو ہدف ِ تنقید بنارہے ہیں تو پھر انہیں لازما فوری ماہرنفسیات سے رابطہ کرلینا چاہیے ۔


Facebook Comments

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

ایشیاء کپ پر خصوصی رپورٹس و ریکارڈزمشتمل ’اسپورٹس لنک‘کاتازہ ایڈیشن شائع ہوگیا

پاکستان میں کھیلوں کے سرفہرست میگزین ہفت روزہ ’اسپورٹس لنک‘ کا تازہ ایڈیشن (7تا 13 …

error: Content is protected !!