ہوم / ٹاپ فائیو / پورے کیریئر میں کبھی نوبال نہ پھینکنے والے 5عظیم بولرز

پورے کیریئر میں کبھی نوبال نہ پھینکنے والے 5عظیم بولرز


یہ درست ہے کہ موجود دور میں ’’فری ہٹ‘‘ کی صورت میں نوبال کی سزا کافی زیادہ کردی گئی ہے مگر ماضی میں بھی یہ اتنا چھوٹا جرم نہ تھا کہ اُسے نظر انداز کردیا جاتا کیونکہ نوبال سے بیٹسمین کو ایک نئی زندگی مل جاتی ہے۔اس سے حریف ٹیم کو نہ صرف ایک زائد رن ملتا بلکہ شاٹ کھیلنے کی صورت میں اُس گیندپرمزید رن بھی مل جاتے ہیں جبکہ گیند بھی دوبارہ پھینکنا پڑتی ہے۔

یوں اگر نوبال پر چھکا اور اگلی گیندپر چوکالگ جائے تو محض ایک گیند پر بیٹنگ ٹیم کے اسکورمیں گیارہ رنز کا اضافہ ہوجاتا ہے۔اس لئے نوبال کسی بھی بولنگ سائیڈ کیلئے بہت بڑا نقصان تصور ہوتی ہے جبکہ فری ہٹ کا قانون لاگو ہونے سے نوبال بہت بڑا’گناہ‘ سمجھی جانے لگی ہے کیونکہ نوبال کے بعد اگلی قانونی گیند( فری ہٹ) پر بھی بیٹسمین ماسوائے رن آئوٹ، ہینڈلزدی بال، ہٹ بال ٹوائس یا آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ کے علاوہ کسی دوسرے طریقے سے آئوٹ نہیں ہوسکتا۔

اگر کوئی بولر کبھی نوبال ہی پھینکے تو کسی کپتان کیلئے اس سے خوش آئند بات نہیں ہوسکتی۔’اسپورٹس لنک‘ میگزین ہر ہفتے کے ایڈیشن میں ’ٹاپ5‘ کے نام سے سلسلہ شائع کرتا ہے جس میں چند ہفتے قبل ایسے عظیم بولرز کو شامل کیا گیاتھا جنہو ں نے اپنے طویل کیریئر میں کبھی نوبال نہیں پھینکی تھی۔یہاں یہ بات حیران کن ہے کہ کیریئر میں کبھی نوبال نہ پھینکنے والے ان پانچ میں سے صرف ایک ہی بولرایساتھا جو میڈیم یا فاسٹ کے بجائے آف اسپنر تھا۔

’’ٹاپ 5‘‘کی مذکورہ قسط یہاں انٹرنیٹ صارفین کیلئے پیش کی جارہی ہے جبکہ یہ سلسلہ ہرہفتے ’اسپورٹس لنک‘میگزین میں ملاحظہ کیا جاسکتاہے جس میں مختلف پہلوئوں سے 5سرفہرست کرکٹرز کو شامل کیا جاتا ہے۔

.1عمران خان

عمران خان پاکستان کرکٹ کا پہلا ایسا حقیقی ہیرو تھا جب شائقین ٹیم کی ٹیم کی مجموعی کارکردگی اور میچ کے نتیجے سے زیادہ اُس کی کارکردگی پر زیادہ نگاہ رکھتے ہیں۔ اُن کیلئے عمران خان کا پرفارم کرنا انتہائی اہم ہوتا تھا۔ انہوں نے بطور کپتان پاکستانی قوم کو متعدد خوشیاں دیں جن میں ورلڈکپ1992ء کی فتح کے علاوہ ویسٹ انڈیزمیں ٹیسٹ جیتنا، بھارت میں بھارت کو ہرانے والا پہلا کپتان بننا بھی شامل تھا۔

ورلڈکپ 92ء کے فائنل میں کپتان عمران خان ہی سب سے زیادہ رنزبنانے والا پاکستانی بلے باز تھا جس نے 72 رنزکی قیمتی اننگزکھیلنے کے علاوہ ایک وکٹ بھی حاصل کی تھی۔ انہوں نے اپنے شاندار کیریئر کے دوران 88 ٹیسٹ میچوں میں 3807رنزبنائے اور362 وکٹیں بھی حاصل کیں ۔

ٹیسٹ میچوں کے علاوہ عمران خان پاکستان کی جانب سے 175ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں بھی میدان میں اُترے تھے جن میں انہوں نے 3709رنزبنانے کے علاوہ 182وکٹیں بھی حاصل کیں ۔ عام زندگی کی طرح وہ بولنگ کے معاملے میں بھی خاصے اصول پسند ہوئے جنہوں نے اپنے طویل کیریئر کے دوران کبھی نوبال نہیں کرائی تھی۔

.2 ڈینس للی

آسٹریلیاکے اس سابق فاسٹ بولر کو باآسانی تاریخ کے چندکامیاب ترین فاسٹ بولروں میں شمار کیا جا سکتاہے جس نے اپنے وقت میں حریف بلے بازوں پر اپنی دھاک بٹھادی تھی ۔وہ ٹیسٹ ہسٹری میں 350 وکٹوں کا سنگ میل عبورکرنے والے دُنیا کے پہلے بولر ہونے کا بھی اعزاز رکھتے ہیں ۔

1971سے شروع ہوکر 1984ء میں اختتام پذیر ہونے والے طویل کیریئر کے دوران ڈینس للی نے کبھی ’’اووراسٹپنگ‘‘ نہیں کی تھی جوکسی بھی فاسٹ بولر کیلئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔اپنے تیرہ سالہ انٹرنیشنل کیریئر کے دوران ڈینس للی نے 70 ٹیسٹ میچوں میں 23.92 کی شاندار اوسط سے 355وکٹیں حاصل کی تھیں جس کے دوران انہوں نے 23بار اننگزمیں پانچ پلس اور سات بار میچ میں 10+وکٹیں لینے کا کارنامہ بھی سرانجام دیا۔

ڈینس للی نے 70ٹیسٹ میچوں کے علاوہ 63 ون ڈے انٹرنیشنلز میں بھی آسٹریلیا کی نمائندگی کی تھی ۔ جن میں 20.83کی عمدہ اوسط سے 103وکٹیں حاصل کی تھیں ۔وہ ایک اصولی بولر تھے جنہوں نے اپنے پورے کیریئر کے دوران ایک بار پھر پائوں کریز پر بولنگ لائن کی مقررہ حد سے آگے نہیں بڑھنے دیاتھا۔

.3 آئن بوتھم

انگلینڈکے سابق آل رائونڈرکو 80sاور90s ء کی دہائی کے اوائل کا بہترین آل رائونڈر مانا جاتاتھا اور آج بھی آل ٹائم گریٹ آل رائونڈرمیں وہ ٹاپ درجوں میں شمار ہوتے ہیں ،وہ ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں فارمیٹس میں بیٹ اور بال دونوں شعبوں میں انگلینڈ کے میچ ونر کھلاڑی تھے ۔

انہوں نے اپنے پندرہ سالہ انٹرنیشنل کیریئر کے دوران 102ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈکی نمائندگی کی جن میں 28.40کی اوسط سے 383وکٹیں لینے کے علاوہ 33.54کی اوسط سے 5200رنز بھی بنائے۔

آئن بوتھم نے 116ون ڈے انٹرنیشنل بھی کھیلے جن میں 2113رنزبنانے کے علاوہ 28.54کی شاندار اوسط سے 145وکٹیں بھی لیں۔آئن بوتھم نے پندرہ سالوں پر محیط انٹرنیشنل کیریئرکے دوران کبھی بھی اوور اسپٹنگ کی وجہ سے چھ سے زائد گیندوں کا اوور نہیں کرایاتھا۔

.4 لانس گبز

ویسٹ انڈیز کے لانس گبزکا شمارٹیسٹ ہسٹری کے چند کامیاب ترین بولروں میں ہوتا ہے جو فریڈ ٹریومین کے بعد ٹیسٹ وکٹوں کی ٹرپل سنچری مکمل کرنے والے محض دوسرے بولر بنے تھے جبکہ وہ یہ اعزاز پانے والے پہلے اسپنر بھی ہیں ۔

ویسٹ انڈین آف اسپنر نے اپنے کیریئرکے دوران 79ٹیسٹ اور تین ون ڈے انٹرنیشنلز کھیلے جن میں 311وکٹیں حاصل کیں تاہم انہوں نے اپنے مجموعی انٹرنیشنل کیریئر میں کبھی نوبال نہیں پھینکی تھی ۔انہوں نے اپنے انٹرنیشنل کیریئر میں 27,271گیندیں پھینکی تھیں مگر اُن میں سے کسی ڈلیوری کے دوران اُن کا پائوں مقررہ حد سے آگے نہیں گیاتھا۔

.5 کپل دیو

ورلڈکپ1983ء میں اپنی جادوئی بیٹنگ سے اہم میچ میں بھارت کو فتح دلانے کے بعد ورلڈکپ جتوانے والے کپتان آئن بوتھم کو آج بھی بھارتی کرکٹ ہسٹری کا سب سے باصلاحیت آل رائونڈر تصور کیاجاتاہے۔انہوں نے بھارتی کرکٹ کو فروغ دینے اور اُسے فتوحات کی پٹڑی پر ڈالنے میں اہم کردار اداکیاتھا۔

اُن کی ریٹائرمنٹ کو کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود بھارت آج بھی اُن جیسی صلاحیت رکھنے والا ایک بھی آل رائونڈر پیدانہیں کرسکاہے ۔ 1978ء میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے کپل دیو نے 1983ء کے ورلڈکپ میں بھارتی ٹیم کی قیادت کی تھی جس میں انہوں نے زمبابوے کے خلاف ’مارویا مرجائو‘جیسی صورتحال والے میچ میں 138 گیندوں پر 175رنزکی ریکارڈساز اننگزکھیل کر اپنی ٹیم کو ورلڈکپ سے باہرہونے سے بچایاتھا۔

بعدازاں وہ لارڈزکے مقام پر ویسٹ انڈیزکے خلاف میچ جیت کر ورلڈکپ جیتنے والا پہلا بھارتی کپتان بنا۔ہریانہ میں پیداہونے والے اس کرکٹرنے بھارت کیلئے 131 ٹیسٹ اور 225ون ڈے انٹرنیشنلز کھیلے۔ جن میں بالترتیب 5248اور3783رنزبنانے کے علاوہ 434اور 253وکٹیں بھی حاصل کیں۔

کپل دیو دُنیاکا واحد کرکٹرہے جسے انٹرنیشنل کرکٹ میں پانچ ہزار رنز اور چار سوسے زائد وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل ہے۔اُس نے اپنے سولہ کیریئر کے دوران کبھی بھی نوبال نہیں پھینکی تھی ۔


Facebook Comments

error: Content is protected !!